کوئنزلینڈ، آسٹریلیا کے سمندری حکام نے غوطہ خوروں اور سیاحوں کو خبردار کیا ہے کہ گریٹ بیریئر ریف میں ’سی ہارس‘ (سمندری گھوڑوں) کو تنگ کرنے کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ محکمہ ماحولیات و سائنس نے منگل کو جاری کردہ بیان میں واضح کیا ہے کہ ان نازک مخلوقات کو ہراساں کرنے یا ان کے قدرتی مسکن کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف اب سخت قانونی کارروائی اور بھاری جرمانے عائد کیے جائیں گے۔
سی ہارس اپنی نازک جسامت اور منفرد عادات کی وجہ سے مشہور ہیں، لیکن انسانی مداخلت ان کی افزائشِ نسل اور خوراک تلاش کرنے کے عمل کو شدید متاثر کر رہی ہے۔ ماہرینِ حیاتیات کے مطابق، قریب سے تصاویر لینے یا انہیں ہاتھ لگانے سے یہ مخلوق شدید دباؤ کا شکار ہو جاتی ہے، جو اکثر ان کی ہلاکت کا باعث بنتا ہے۔
میرین بائیولوجسٹ ڈاکٹر آنیا شرما کا کہنا ہے کہ "یہ محض چند اکا دکا واقعات نہیں بلکہ ایک بڑھتا ہوا رجحان ہے جو پوری ماحولیاتی زنجیر کے لیے خطرہ ہے۔ سی ہارس سیاحوں کے لیے کھلونا نہیں، بلکہ ہمارے سمندری نظام کا ایک اہم حصہ ہیں۔” مقامی غوطہ خوروں نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ سیاحوں کی جانب سے جارحانہ انداز اور سمندری گھاس کے بستروں کو پہنچنے والا نقصان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
قانون کے تحت، ان محفوظ سمندری حیات کو تنگ کرنا ‘میرین پارکس ایکٹ 2004’ کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ حکام نے تنبیہ کی ہے کہ خلاف ورزی کرنے والوں کو 2,000 آسٹریلوی ڈالر سے زائد کے موقع پر جرمانے کیے جا سکتے ہیں، جبکہ سنگین صورتوں میں عدالت کی جانب سے 2 لاکھ ڈالر تک کا جرمانہ یا قید کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔ ان علاقوں میں گشت بڑھانے کے لیے خصوصی نگرانی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
دوسری جانب، مقامی سیاحتی آپریٹرز کا ماننا ہے کہ صرف جرمانوں سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ ٹور آپریٹر مارک جینکنز کے مطابق، "ہم ریف کی حفاظت کے حامی ہیں، لیکن ہمیں سیاحوں کو آگاہی فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ زیادہ تر لوگ نادانی میں ایسا کرتے ہیں، اس لیے غوطہ خوری سے قبل بریفنگ کو لازمی قرار دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔”
سی ہارس (نایاب حیات کی بین الاقوامی تجارت پر کنونشن) کی فہرست میں شامل ہیں، جو انہیں بین الاقوامی تحفظ فراہم کرتی ہے۔ ان کے تولیدی عمل کی خاص بات یہ ہے کہ نر سی ہارس انڈے اٹھاتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی آبادی ماحولیاتی تبدیلیوں اور انسانی مداخلت کے لیے انتہائی حساس ہوتی ہے۔ یہ قانونی انتباہ ایک یاد دہانی ہے کہ سمندر کی سب سے چھوٹی مخلوق کا تحفظ دراصل خود انسانوں کے ذمہ داری ہے۔
