سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی ہتھیاروں کی قلت کی رپورٹس کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے ان دعوؤں کو "جعلی خبریں” قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ خفیہ معلومات لیک کرنے والوں کو ڈھونڈ نکالا جائے گا اور ان کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔
مار-اے-لاگو میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ امریکی عسکری گودام خالی ہو رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے دورِ حکومت کے دوران فوجی تیاریوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا، "ہمارے پاس دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا ہتھیاروں کا ذخیرہ موجود ہے۔ شیلف بھرے ہوئے ہیں، اور جو بھی اس کے برعکس کہہ رہا ہے، وہ محض سرخیوں میں رہنے کی کوشش کر رہا ہے۔”
ان بیانات کے پسِ پردہ، ٹرمپ کی عبوری ٹیم کے لیے حکومتی رازوں کا افشا ہونا ایک بڑا دردِ سر بن چکا ہے۔ ٹرمپ نے اس بات کی تصدیق کی کہ حکومتی حلقوں یا عبوری ٹیم کے اندر موجود ان افراد کی تلاش جاری ہے جو حساس نوعیت کی معلومات میڈیا کو فراہم کر رہے ہیں۔
"ہمیں معلوم ہے کہ وہ کون ہیں،” ٹرمپ نے غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔ "اس وقت ان کا پیچھا کیا جا رہا ہے۔ جب ہم انہیں ڈھونڈ لیں گے، تو وہ دوبارہ کبھی حکومتی ملازمت کے قابل نہیں رہیں گے۔ یہ ایک شرمناک حرکت ہے۔”
یہ تنازعہ ان رپورٹس کے بعد شروع ہوا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ امریکی گولہ بارود کے ذخائر، خاص طور پر اتحادیوں کے لیے مختص کردہ سامان، عالمی طلب کے مطابق تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔ ناقدین ان رپورٹس کو امریکی دفاعی صلاحیت میں کمزوری کی علامت قرار دے رہے ہیں۔
ٹرمپ کی ٹیم ان لیکس کو ‘وسل بلوئنگ’ نہیں بلکہ اپنی خارجہ پالیسی کو نقصان پہنچانے کی ایک منظم کوشش سمجھتی ہے۔ لیکس کو قومی سلامتی کے خلاف ایک اقدام کے طور پر پیش کر کے، سابق صدر نے بحث کا رخ فوجی صلاحیت سے ہٹا کر اندرونی وفاداری کی طرف موڑ دیا ہے۔
پینٹاگون کے حکام نے اب تک ہتھیاروں کی قلت کے حوالے سے مخصوص دعوؤں پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے، جس کی وجہ سپلائی چین کی حساس نوعیت ہے۔ تاہم، لیک کرنے والوں کی تلاش میں تیزی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ عبوری ٹیم اس بات پر سخت پریشان ہے کہ کتنی حساس معلومات عوامی سطح پر پہنچ رہی ہیں۔
فی الحال ٹرمپ کی حکمت عملی واضح ہے: رپورٹس کو غلط ثابت کرنا، ذرائع کو دھمکانا اور طاقت کا تاثر برقرار رکھنا۔ واشنگٹن کے ایوانوں میں ہتھیاروں کی اصل صورتحال پر بحث جاری ہے، لیکن ٹرمپ کے نزدیک یہ معاملہ طے پا چکا ہے۔
