برطانیہ کے آبی راستوں پر واٹر وولز کی دوبارہ موجودگی کی تصدیق کسی جدید ٹیکنالوجی سے نہیں، بلکہ دریائی کناروں پر موجود ان کے مخصوص فضلے کے ڈھیروں سے ہو رہی ہے۔ ماہرینِ ماحولیات ان مقامات کو ‘لیٹرینز’ کہتے ہیں، جہاں یہ ممالیہ جانور بار بار فضلہ جمع کرتے ہیں۔
یہ کچلے ہوئے فضلے کے ڈھیر محض ایک حیاتیاتی عمل نہیں، بلکہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ واٹر وولز نے ان علاقوں میں دوبارہ اپنی کالونیاں بسانا شروع کر دی ہیں جہاں سے وہ کئی دہائیوں قبل مکمل طور پر ختم ہو چکے تھے۔
گزشتہ صدی کے آخر میں ان جانوروں کی تعداد میں 90 فیصد تک کمی دیکھی گئی تھی۔ اس کی بنیادی وجوہات رہائشی علاقوں کا پھیلاؤ اور غیر ملکی امریکی منک کا شکار تھیں۔ اب حالیہ برسوں میں کیے گئے تحفظِ حیات کے اقدامات اور منک کے خاتمے کی مہمات کے اثرات سامنے آ رہے ہیں۔
ماہرِ ماحولیات ڈاکٹر ایلینا تھورن کہتی ہیں، "یہ ہمارے پاس موجود سب سے بہترین غیر جارحانہ پیمانہ ہے۔ جب ہم دریائی کناروں پر کچلے ہوئے، سگار نما فضلے کے ڈھیر دیکھتے ہیں، تو ہمیں یقین ہو جاتا ہے کہ یہ کسی ایک گزرتے ہوئے جانور کا کام نہیں، بلکہ ایک مستحکم کالونی کی موجودگی کا اشارہ ہے۔”
واٹر وولز اپنی حدود کے تعین کے لیے انتہائی نظم و ضبط کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ وہ اپنے فضلے کو ایک خاص جگہ پر جمع کرتے ہیں اور وہاں سے گزرتے ہوئے اسے مٹی یا گھاس میں کچل دیتے ہیں۔ یہ عمل دراصل دوسرے وولز کے لیے ایک پیغام ہوتا ہے کہ یہ علاقہ پہلے سے ہی کسی کے قبضے میں ہے۔ ایک بکھرا ہوا فضلہ اتفاق ہو سکتا ہے، لیکن کچلا ہوا ڈھیر ایک فعال کمیونٹی کی نشانی ہے۔
اگرچہ واٹر وولز کی واپسی ماحولیاتی توازن کے لیے خوش آئند ہے، مگر ان کی بقا اب بھی خطرے سے خالی نہیں۔ دریائی کناروں پر ہونے والی تعمیرات اور زرعی کیمیکلز کا بہاؤ ان کے قدرتی مسکن کو مسلسل متاثر کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ، اگرچہ منک کے شکار کو محدود کیا گیا ہے، لیکن ان کا خطرہ ابھی بھی مکمل طور پر ٹلا نہیں ہے۔
محافظِ ماحولیات اب ان ‘ہاٹ سپاٹ’ مقامات کو نقشوں پر محفوظ کر رہے ہیں تاکہ وہاں انسانی سرگرمیوں کو محدود کیا جا سکے اور ایسی گھاس اگائی جا سکے جو وولز کی خوراک اور پناہ کے لیے ضروری ہے۔
واٹر وولز آج بھی برطانیہ کے شدید خطرے سے دوچار ممالیہ جانوروں میں شامل ہیں۔ مگر دریائی مٹی پر چھوڑے گئے یہ چھوٹے چھوٹے نشان اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ یہ جانور ایک بار پھر اپنی کھوئی ہوئی سلطنت واپس حاصل کر رہے ہیں۔
