پاکستان اور ہانگ کانگ نے کسٹمز کے امور میں باہمی تعاون کو فروغ دینے اور معلومات کے تبادلے کے لیے ایک باقاعدہ معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد دونوں خطوں کے درمیان تجارت کو دستاویزی شکل دینا اور اسمگلنگ جیسے مسائل کی روک تھام ہے۔
اس معاہدے کے تحت پاکستان کسٹمز اور ہانگ کانگ کے کسٹمز اینڈ ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کے درمیان انٹیلیجنس معلومات کا تبادلہ کیا جائے گا۔ حکام کو توقع ہے کہ اس سے ٹیکس چوری، انڈر انوائسنگ اور تجارتی بنیادوں پر ہونے والی منی لانڈرنگ کے سدباب میں مدد ملے گی، جو طویل عرصے سے پاکستانی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔
تاجر برادری کے لیے یہ معاہدہ کلیئرنس کے عمل میں تیزی لانے کا باعث بنے گا۔ دستاویزات کی تصدیق کے لیے ڈیجیٹل پروٹوکولز کو ہم آہنگ کرنے سے بندرگاہوں پر سامان کی ترسیل میں تاخیر کم ہوگی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ صرف کاغذی کارروائی تک محدود نہیں، بلکہ ڈیٹا کے حقیقی وقت میں تبادلے سے محصولات میں اضافے کی گنجائش پیدا ہوگی۔ اگر دونوں ممالک کے سسٹم آپس میں مربوط ہو جاتے ہیں تو سامان کی مالیت کو کم ظاہر کرنے (انڈر انوائسنگ) کا رجحان کافی حد تک کم ہو جائے گا۔
پاکستان کے لیے ہانگ کانگ الیکٹرانکس، مشینری اور خام مال کی درآمد کا ایک اہم مرکز ہے۔ ماضی میں کسٹمز کے درمیان باقاعدہ میکانزم نہ ہونے کی وجہ سے دونوں ممالک کے تجارتی اعدادوشمار میں اکثر تضاد پایا جاتا تھا۔
یہ معاہدہ چین-پاکستان اقتصادی راہداری کے لاجسٹکس نیٹ ورک کو مزید مضبوط بنانے کی ایک کڑی ہے۔ ہانگ کانگ کی کمپنیاں سی پیک کے تحت شپنگ اور فنانسنگ میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں، اس لیے اس تعاون سے محصولات کی وصولی میں شفافیت آنے کی توقع ہے۔
معاہدہ فوری طور پر نافذ العمل ہو گیا ہے اور دونوں ممالک کی تکنیکی ٹیمیں اگلے ماہ ملاقات کریں گی تاکہ ڈیٹا کے تبادلے کے فارمیٹس کو حتمی شکل دی جا سکے۔
کیا یہ معاہدہ واقعی ٹیکس وصولی میں نمایاں بہتری لائے گا؟ اس کا جواب آنے والے مہینوں میں کسٹمز کے خودکار نظام کے عملی نفاذ سے ملے گا۔ فی الحال، یہ ایک ایسی تجارتی راہداری کو ادارہ جاتی تحفظ فراہم کرنے کی کوشش ہے جو برسوں سے غیر رسمی طریقوں پر چل رہی تھی۔
