راولاکوٹ — انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے راولاکوٹ میں حالیہ ہنگامہ آرائی کی فوری اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ دونوں تنظیموں نے مظاہرین کے خلاف طاقت کے بے جا استعمال اور پرامن شرکاء کی گرفتاریوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
یہ کشیدگی رواں ہفتے اس وقت شروع ہوئی جب مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق، معاشی مطالبات کے حق میں نکالا گیا یہ احتجاج اس وقت پرتشدد رخ اختیار کر گیا جب انتظامیہ نے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کے ذریعے ہجوم کو منتشر کرنے کی کوشش کی۔
انسانی حقوق کے دونوں اداروں نے ریاستی کارروائی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ نے جمعرات کی شب جاری کردہ بیان میں حکومتی ردعمل کو "غیر متناسب” قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہریوں پر طاقت کا استعمال آئینی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی اس موقف کی تائید کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ان افراد کو فوری رہا کیا جائے جنہیں صرف پرامن احتجاج میں شرکت کی پاداش میں حراست میں لیا گیا ہے۔
دوسری جانب مقامی انتظامیہ کا موقف ہے کہ یہ اقدامات عوامی املاک کے تحفظ اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ضروری تھے۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ احتجاج میں "شرپسند عناصر” شامل ہو گئے تھے، جس کے بعد پولیس کو مداخلت کرنا پڑی۔
مقامی وکلاء اور کارکنان انتظامیہ کے اس بیان کو مسترد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے شفاف رپورٹنگ کا فقدان ایک آزادانہ تحقیقات کو ناگزیر بناتا ہے۔ ناقدین کے مطابق، علاقے میں انٹرنیٹ کی بندش اور میڈیا کی رسائی پر پابندی دراصل کریک ڈاؤن کی شدت کو چھپانے کی ایک کوشش ہے۔
راولاکوٹ میں حالات اب بھی کشیدہ ہیں۔ اگرچہ کاروباری مراکز جزوی طور پر کھل چکے ہیں، لیکن سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری کی موجودگی مسلسل تناؤ کی عکاسی کر رہی ہے۔
زیر حراست افراد کے اہل خانہ معلومات کے منتظر ہیں۔ جب تک مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز دونوں کے اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے کوئی غیر جانبدار کمیشن قائم نہیں کیا جاتا، ریاست اور عوام کے درمیان بداعتمادی کی یہ خلیج مزید گہری ہوتی رہے گی۔
