ملتان — دریائے چناب میں پانی کی سطح بلند ہونے سے ملتان کے 22 دیہات جزوی طور پر ڈوب گئے ہیں۔ منگل کی صبح دریا کے پشتوں میں شگاف پڑنے کے بعد ہزاروں مکین اپنا سامان سمیٹ کر محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی کر رہے ہیں، جبکہ سیلابی ریلے نے علاقے کو مرکزی شاہراہ سے کاٹ دیا ہے۔
یہ صورتحال بالائی علاقوں میں ہونے والی شدید مون سون بارشوں کے بعد پیدا ہوئی۔ محکمہ آبپاشی کی جانب سے پانی کا اضافی دباؤ دریا میں چھوڑے جانے کے بعد نچلے علاقوں میں پانی داخل ہوا، جس سے سینکڑوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ اور مال مویشی خطرے کی زد میں ہیں۔
شجاع آباد کے قریب ایک متاثرہ گاؤں کے رہائشی محمد جاوید نے بتایا، "پانی ہم سو رہے تھے کہ اچانک داخل ہو گیا۔ ہمیں گندم کے ذخائر بچانے کا موقع تک نہیں ملا اور اب سڑکیں مکمل طور پر غائب ہو چکی ہیں۔”
ضلعی انتظامیہ کے مطابق امدادی کارروائیوں کے لیے کشتیاں روانہ کر دی گئی ہیں اور قریبی علاقوں میں تین ہنگامی کیمپ قائم کیے گئے ہیں۔ تاہم، مقامی سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ حکومتی ردعمل میں سستی برتی گئی۔ ان کے مطابق محکمہ آبپاشی کی جانب سے بروقت انتباہ نہ ملنے کے باعث کسانوں کو مویشی محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا وقت نہیں ملا۔
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق ہیڈ محمد والا کے مقام پر پانی کا بہاؤ مسلسل خطرناک سطح پر برقرار ہے۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ صورتحال کی گھنٹہ وار نگرانی کی جا رہی ہے، لیکن نشیبی علاقوں میں انفراسٹرکچر کو پہنچنے والا نقصان بڑھتا جا رہا ہے۔
اس سیلاب کا معاشی اثر سنگین ہے۔ متاثرہ دیہات کا زیادہ تر انحصار زراعت پر ہے اور فصلوں کی تباہی مقامی معیشت کے لیے بڑا دھچکا ہے۔ ان خاندانوں کے لیے یہ گزشتہ تین برسوں میں دوسری بار ہے کہ ان کی زرعی زمینیں سیلابی پانی کی نذر ہوئی ہیں۔
رات کے اندھیرا چھانے کے ساتھ ہی ریسکیو آپریشن کی رفتار سست پڑ گئی ہے۔ محکمہ موسمیات نے آئندہ 48 گھنٹوں کے دوران مزید بارشوں کی پیش گوئی کی ہے، جس کا مطلب ہے کہ دریائے چناب میں پانی کی سطح فی الحال کم ہونے کے کوئی آثار نہیں ہیں۔
