اگست کا مہینہ تاریخ کا مشترکہ طور پر گرم ترین مہینہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یورپی یونین کی کوپرنیکس کلائمیٹ چینج سروس کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، اس سال اگست کا درجہ حرارت گزشتہ سال اگست کے ریکارڈ کے برابر رہا، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کرہ ارض کے گرم ہونے کا عمل اب کسی رکاوٹ کے بغیر تیزی سے جاری ہے۔
گزشتہ ماہ عالمی سطح پر اوسط درجہ حرارت 16.82 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ یہ اعداد و شمار گزشتہ سال کے اسی عرصے سے 0.01 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی کم فرق رکھتے ہیں، جسے سائنسدانوں نے ایک ‘شماریاتی برابری’ قرار دیا ہے۔ گزشتہ 14 مہینوں میں سے 13 ایسے رہے ہیں جن میں عالمی درجہ حرارت صنعتی دور سے پہلے کے مقابلے میں 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ کی حد کو پار کر چکا ہے۔
یہ صرف تھرمامیٹر کی ریڈنگ نہیں، بلکہ ایک سنگین بحران ہے۔ دنیا بھر میں موسمیاتی شدت میں اضافہ ہوا ہے۔ بحیرہ روم کے علاقوں میں شدید گرمی کی لہریں ہوں یا ایشیا کے مختلف حصوں میں تباہ کن سیلاب، یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ زمین اپنی برداشت سے زیادہ حرارت جذب کر رہی ہے۔
کوپرنیکس سروس کی ڈپٹی ڈائریکٹر سمانتھا برجس کا کہنا ہے کہ "اگست 2024 کا درجہ حرارت 1850-1900 کے صنعتی دور سے پہلے کی سطح سے 1.51 ڈگری زیادہ تھا۔” ان کے نزدیک یہ اعداد و شمار محض ایک رپورٹ نہیں، بلکہ ایک انتباہ ہیں۔ سمانتھا برجس نے واضح کیا کہ اگر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں فوری اور بڑی کٹوتی نہ کی گئی، تو یہ ‘ریکارڈ توڑ’ گرمی جلد ہی معمول بن جائے گی۔
مستقبل کے حوالے سے صورتحال مزید تشویشناک ہے۔ قطب شمالی میں برف پگھلنے کی رفتار تیز ہے اور سمندروں کی سطح کا درجہ حرارت بھی ریکارڈ بلندیوں پر ہے۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے ماہرین کا ماننا ہے کہ 2024 کا سال 2023 کو پیچھے چھوڑ کر تاریخ کا گرم ترین سال بن سکتا ہے۔
کئی خطوں کے لیے نقصان ناقابل تلافی ہو چکا ہے۔ ایسے شہر جو ٹھنڈے موسم کے مطابق تعمیر کیے گئے تھے، اب طویل گرمی کی لہروں کی وجہ سے دراڑوں کا شکار ہو رہے ہیں، جبکہ زرعی پیداوار پر بھی اس کے منفی اثرات نمایاں ہیں۔
اب پالیسی سازوں کے لیے سوال یہ نہیں کہ زمین گرم ہو رہی ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ اس بدلتے ہوئے اور غیر مستحکم موسم سے نمٹنے کے لیے کتنی تیزی سے تیاری کرتے ہیں۔ گرمی کی یہ لہر ثابت کر رہی ہے کہ مزید تباہی کو روکنے کا وقت تیزی سے ہاتھ سے نکل رہا ہے۔
