مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ایران کے گرد بڑھتے ہوئے تناؤ نے عالمی توانائی کی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ قدرتی گیس کی سپلائی میں خلل اور قیمتوں میں اضافے کے باعث دنیا بھر میں کوئلے کا استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا ہے۔
یہ تبدیلی کسی طویل مدتی توانائی حکمت عملی کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک ہنگامی ردِعمل ہے۔ جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگی صورتحال نے مائع قدرتی گیس کی ترسیل کو خطرے میں ڈالا، تو دنیا بھر کے پاور پلانٹس نے بجلی کے بحران سے بچنے کے لیے کوئلے کا رخ کیا۔ کوئلہ—جسے ماحولیاتی وجوہات کی بنا پر مرحلہ وار ختم ہونا تھا—اب اچانک سستا اور فوری دستیاب متبادل بن چکا ہے۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے اعداد و شمار اس رجحان کی تصدیق کرتے ہیں۔ عالمی سطح پر کوئلے کی طلب 8.5 ارب ٹن سے تجاوز کر چکی ہے۔ اگرچہ قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں پر کام جاری ہے، لیکن ان کی رفتار اتنی نہیں کہ گیس کی قیمتوں میں ہونے والے اچانک اتار چڑھاؤ کا مقابلہ کر سکیں۔
توانائی کے امور کے ایک ماہر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، "ملکی مفادات کی ترجیحات میں توانائی کے تحفظ نے ماحولیاتی اہداف کی جگہ لے لی ہے۔ حکومتیں کوئلے کا انتخاب شوق سے نہیں کر رہیں، بلکہ انہیں بجلی کی قلت اور اس سے پیدا ہونے والے معاشی بحران کا خوف ہے۔”
اس صورتحال کے ماحولیاتی اثرات سنگین ہیں۔ بجلی کے شعبے سے خارج ہونے والی کاربن گیسوں میں دوبارہ اضافہ ہو رہا ہے، جس سے گزشتہ برسوں کی محنت ضائع ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ چین اور بھارت—جو دنیا میں کوئلے کے سب سے بڑے صارف ہیں—اپنی صنعتوں کو عالمی منڈی کے جھٹکوں سے بچانے کے لیے مقامی کان کنی میں تیزی لا چکے ہیں۔
بحیرہ احمر اور خلیجِ فارس میں جاری کشیدگی نے توانائی کی ترسیل کے اہم راستوں کو غیر محفوظ بنا دیا ہے۔ بحری جہازوں کے انشورنس پریمیم میں اضافے اور طویل راستے اختیار کرنے کی وجہ سے درآمدی گیس غریب اور ترقی پذیر ممالک کی پہنچ سے باہر ہو گئی ہے۔ کوئلہ، جو اکثر مقامی سطح پر دستیاب ہوتا ہے، ان ممالک کے لیے ایک ڈھال بن کر سامنے آیا ہے۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جس جغرافیائی سیاسی عدم استحکام نے دفاعی اخراجات بڑھائے ہیں، اسی نے عالمی معیشت کو دوبارہ کوئلے پر انحصار کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
جب تک مشرقِ وسطیٰ میں تناؤ کم نہیں ہوتا، عالمی توانائی کی منتقلی کا عمل تعطل کا شکار رہے گا۔ فی الحال، دنیا کوئلے کو ترجیح نہیں بلکہ مجبوری کے تحت جلا رہی ہے، تاکہ بجلی کی ترسیل کو برقرار رکھا جا سکے۔
