کاسٹیلو برانکو: پرتگال کے وسطی علاقوں میں جنگلات میں لگی آگ نے شدت اختیار کر لی ہے، جہاں ریکارڈ توڑ گرمی اور بحر اوقیانوس سے آنے والی تیز ہواؤں نے امدادی کارروائیوں کو مشکل بنا دیا ہے۔ آگ بجھانے والے ایک ہزار سے زائد اہلکار اس وقت میدان میں موجود ہیں، جبکہ سینکڑوں رہائشیوں کو اپنے گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات پر منتقل ہونا پڑا ہے۔
ہفتے کے روز کاسٹیلو برانکو کے علاقے سے شروع ہونے والی یہ آگ اب تک پائن اور یوکلپٹس کے ہزاروں ہیکٹر رقبے کو راکھ کر چکی ہے۔ درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر چکا ہے، جبکہ 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہواؤں نے آگ کے شعلوں کو آبادی کی جانب دھکیل دیا ہے۔
مقامی سول پروٹیکشن کے کمانڈر نے پریس بریفنگ کے دوران صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ "ہم آگ کی ایسی دیوار سے لڑ رہے ہیں جو ہوا کا رخ بدلتے ہی اپنی سمت تبدیل کر لیتی ہے۔” انہوں نے تصدیق کی کہ احتیاطی تدابیر کے طور پر متعدد دیہات خالی کرائے گئے ہیں، تاہم نقصانات کا حتمی تخمینہ لگانا ابھی باقی ہے۔
آگ کے پھیلاؤ کی رفتار نے مقامی وسائل کو ناکافی ثابت کر دیا ہے۔ حکومت نے ملک بھر سے واٹر بمبار طیارے اور بھاری مشینری علاقے میں طلب کر لی ہے، لیکن ناہموار پہاڑی راستوں کے باعث فائر فائٹرز کو آگ کے مرکز تک پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
مقامی لوگوں کے لیے یہ سانحہ 2017 کی یادیں تازہ کر رہا ہے، جب اسی طرح کے حالات نے ملک کی تاریخ کے بدترین آتشزدگی کے سیزن کو جنم دیا تھا۔ اگرچہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ تب سے اب تک آگ سے بچاؤ کے فنڈز میں اضافہ کیا گیا ہے، لیکن ماہرینِ ماحولیات کا ماننا ہے کہ طویل خشک سالی اور شدید گرمی کے چکر نے روایتی حفاظتی حکمت عملیوں کو کمزور کر دیا ہے۔
وزارتِ داخلہ نے ملک کے بڑے حصے میں "الرٹ” جاری کر دیا ہے اور زرعی مشینری کے استعمال اور آتش بازی پر پابندی عائد کر دی ہے تاکہ آگ کے مزید پوائنٹس بننے سے روکے جا سکیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق ہیٹ ویو کا یہ سلسلہ کم از کم اگلے 48 گھنٹے تک جاری رہے گا۔ جب تک ہواؤں کا زور نہیں ٹوٹتا اور نمی کا تناسب نہیں بڑھتا، فرنٹ لائن پر موجود ہزاروں فائر فائٹرز کے لیے اس آگ پر مکمل قابو پانا ایک بڑا چیلنج بنا رہے گا۔
