صوبائی وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے واضح کیا ہے کہ جب تک آصف علی زرداری صدرِ مملکت ہیں، سندھ کی جغرافیائی حدود کو کوئی گزند نہیں پہنچا سکتا۔ کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے صوبے کی تقسیم سے متعلق گردش کرنے والی افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے اسے سیاسی مخالفین کی ‘شوشہ بازی’ قرار دیا۔
ناصر حسین شاہ کا کہنا تھا کہ سندھ کی تقسیم کا تصور کرنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر زرداری کی موجودگی وفاق میں سندھ کے حقوق اور اس کی سالمیت کی سب سے بڑی ضمانت ہے۔ ان کے مطابق، ایسی قیاس آرائیاں صرف انتشار پھیلانے کے لیے کی جاتی ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
سندھ کی تقسیم کا معاملہ ماضی میں بھی سیاسی درجہ حرارت بڑھانے کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے۔ شہری اور دیہی سندھ کے درمیان خلیج کو بنیاد بنا کر وقتاً فوقتاً نئے انتظامی یونٹس یا کراچی کو الگ کرنے کی باتیں اٹھتی ہیں۔ پیپلز پارٹی ان مطالبات کو ہمیشہ سندھ دشمنی کے زمرے میں رکھتی آئی ہے۔ ناصر حسین شاہ کا بیان اس بات کا اعادہ ہے کہ پارٹی قیادت اپنی روایتی پالیسی پر قائم ہے اور کسی بھی قسم کی تقسیم کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، وزیر بلدیات کا یہ بیان محض ایک تردید نہیں بلکہ ایک سیاسی پیغام ہے۔ وفاق میں پیپلز پارٹی کے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے وہ اپنے ووٹرز کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ صوبے کے مفادات محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ سندھ کی تقسیم کا موضوع ایک ایسا حساس تار ہے جسے چھیڑنے سے صوبے میں لسانی اور سیاسی کشیدگی کا خدشہ ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ ناصر حسین شاہ نے اس بار سخت لہجہ اپنا کر نہ صرف افواہوں پر فل اسٹاپ لگانے کی کوشش کی ہے، بلکہ مخالف جماعتوں کو بھی خبردار کیا ہے کہ وہ اس معاملے کو سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لیے استعمال نہ کریں۔
فی الحال، سندھ حکومت کا موقف واضح ہے: جغرافیائی وحدت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ بیان سیاسی حلقوں میں جاری اس بحث کو ختم کر پاتا ہے یا یہ موضوع کسی اور شکل میں دوبارہ سر اٹھائے گا۔
