کراچی — جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے وفاقی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات پر لیوی کی مد میں عوام سے 8.5 ٹریلین روپے اکٹھے کیے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے ایک پریس کانفرنس کے دوران حکومت کی معاشی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بھاری ٹیکس عام آدمی کے گھریلو بجٹ پر براہِ راست حملہ ہے، جو پہلے ہی مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے۔ جماعت اسلامی کے امیر کے نزدیک یہ محض اعداد و شمار نہیں بلکہ ایک ایسی پالیسی ہے جس میں حکومتی اخراجات اور قرضوں کی ادائیگی کو عوام کی قوتِ خرید پر ترجیح دی جا رہی ہے۔
دوسری جانب حکومت کا موقف ہے کہ پٹرولیم لیوی کے اہداف کا حصول آئی ایم ایف کے ساتھ طے پانے والے معاہدوں اور ملکی معاشی استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے باعث مالیاتی خسارے کو کم کرنے کے لیے پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس کا مارجن برقرار رکھنا مجبوری ہے۔
تاہم حافظ نعیم نے اس بیانیے کو مسترد کر دیا۔ ان کا مؤقف ہے کہ ریاستی نااہلی کا بوجھ غریب عوام پر ڈالنے کے بجائے حکومتی سطح پر ہونے والے شاہانہ اخراجات اور اشرافیہ کو ملنے والی مراعات میں کٹوتی کی جانی چاہیے۔
حقیقت یہ ہے کہ پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا اثر صرف ٹرانسپورٹ تک محدود نہیں رہتا، بلکہ یہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا باعث بن کر پوری سپلائی چین کو متاثر کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پٹرولیم لیوی کا معاملہ اب ایک سیاسی بحث بن چکا ہے۔
جماعت اسلامی نے اس معاملے پر عوامی سطح پر احتجاج اور دباؤ بڑھانے کا اشارہ دیا ہے۔ حافظ نعیم کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت معاشی اصلاحات کے نام پر سخت فیصلے کر رہی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا عوامی دباؤ حکومت کو پٹرولیم لیوی کی شرح میں نرمی پر مجبور کر پائے گا یا حکومتی معاشی ٹیم اپنے طے کردہ مالیاتی اہداف پر ہی ڈٹی رہے گی۔
