خان پور کے قریب پیش آنے والے المناک ٹریفک حادثے میں مزید تین افراد کی ہلاکت کے بعد جاں بحق ہونے والوں کی مجموعی تعداد سات تک پہنچ گئی ہے۔ یہ حادثہ مسافر وین اور تیز رفتار ٹرک کے درمیان ٹکر سے پیش آیا، جس نے ایک بار پھر شاہراہوں پر سفری حفاظتی انتظامات کے فقدان کو بے نقاب کر دیا ہے۔
ضلعی ہیڈکوارٹر ہسپتال کے حکام کے مطابق، گزشتہ رات تین زخمیوں نے دورانِ علاج دم توڑ دیا۔ حادثے کے فوراً بعد چار افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے تھے۔ ہسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جاں بحق ہونے والوں میں شدید اندرونی چوٹیں آئی تھیں، جنہیں بروقت طبی امداد کے باوجود نہیں بچایا جا سکا۔
حادثے کا شکار ہونے والی وین دیہی علاقے سے مسافروں کو لے کر شہر آ رہی تھی۔ عینی شاہدین کے مطابق سڑک کی خستہ حالی اور تنگ موڑ حادثے کی بڑی وجہ بنے۔ پولیس نے ٹرک ڈرائیور کو حراست میں لے لیا ہے، تاہم ڈرائیور کا دعویٰ ہے کہ وین ڈرائیور نے اچانک راستہ تبدیل کیا جس سے ٹکر ناگزیر ہو گئی۔
اس شاہراہ پر گزشتہ چھ ماہ کے دوران یہ تیسرا بڑا حادثہ ہے۔ مقامی شہریوں نے آج صبح میونسپل آفس کے باہر احتجاج کیا اور سڑک پر اسپیڈ بریکرز کی تنصیب اور روشنی کے بہتر انتظام کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ بھاری ٹریفک اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار سڑک روزانہ مسافروں کی جان کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہے۔
ایک مقامی سماجی رہنما نے جائے وقوعہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "ہم ہر بار سڑک کی بہتری کے وعدے سنتے ہیں، لیکن حقیقت ہسپتال کے سرد خانے میں نظر آتی ہے۔ آخر کتنی جانیں مزید ضائع ہوں گی تب حکام کو ہوش آئے گا؟”
ضلعی انتظامیہ نے حادثے کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم، لواحقین اپنے پیاروں کی آخری رسومات میں مصروف ہیں اور اس خطرناک شاہراہ پر سفر کرنے والے دیگر مسافروں کے لیے حالات بدستور پہلے جیسے ہیں۔
