ٹوکیو کے تاما زولوجیکل پارک میں ایک ہفتے سے جاری ریکارڈ توڑ گرمی کے نتیجے میں تین شیر ہلاک ہو گئے۔ جاپان کے دارالحکومت میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت نے جہاں انسانی زندگی کو متاثر کیا ہے، وہیں اب یہ جانوروں کے لیے بھی جان لیوا ثابت ہو رہا ہے۔
منگل کی صبح جب عملہ انکلوژر میں پہنچا تو شیر بے سدھ پڑے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں 21 سالہ مائی، 14 سالہ لونا اور 14 سالہ لیوس شامل ہیں۔ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ اور طبی معائنوں میں ہلاکتوں کی بنیادی وجہ ‘ہیٹ اسٹروک’ قرار دی گئی ہے۔ ٹوکیو میں درجہ حرارت گزشتہ کئی دنوں سے 38 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔
اس واقعے کے بعد جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے چڑیا گھر کی انتظامیہ پر تنقید شروع کر دی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ پرانے انفراسٹرکچر کی وجہ سے جانوروں کے لیے بنائے گئے انکلوژر شدید گرمی برداشت کرنے کے قابل نہیں رہے۔
چڑیا گھر کے ایک سابق ملازم نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "یہ شیر عمر رسیدہ تھے، اور جب گرمی کی لہر طویل ہو جائے تو عام انکلوژر ایک بھٹی میں بدل جاتے ہیں۔ یہاں روایتی کولنگ سسٹم ناکافی ثابت ہوئے۔”
انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ انہوں نے جانوروں کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے پنکھوں، مسٹنگ اور برف کے بلاکس کا استعمال کیا تھا، لیکن شہر میں جاری اس شدید گرمی کے سامنے یہ اقدامات بے اثر ثابت ہوئے۔ ٹوکیو میٹروپولیٹن حکومت نے اب شہر کے تمام سرکاری چڑیا گھروں میں جانوروں کے رہائشی حصوں کا جائزہ لینے کا حکم دیا ہے۔
یہ صرف ایک چڑیا گھر کا مسئلہ نہیں ہے۔ جاپان بھر کے زو انتظامیہ اس بدلتے ہوئے موسم کے چیلنج کا سامنا کر رہے ہیں۔ کئی دہائیاں قبل تعمیر کیے گئے ان مراکز کا ڈیزائن قدرتی ہوا کے گزر پر مبنی ہے، جو اب رات کے وقت 30 ڈگری سے اوپر جانے والے درجہ حرارت میں کام نہیں کر رہا۔
تاما زولوجیکل پارک کے لیے یہ ایک بڑا نقصان ہے۔ خاص طور پر مائی، جو اپنی پوری زندگی اسی چڑیا گھر میں گزاری، مقامی لوگوں میں بہت مقبول تھی۔
فی الحال انکلوژرز کو عوام کے لیے بند کر دیا گیا ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا انتظامیہ شکاری جانوروں کے رہائشی حصوں کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کے لیے ہنگامی اقدامات کرے گی یا نہیں۔ فی الوقت باقی شیروں کو کلائمٹ کنٹرولڈ ان ڈور ہولڈنگ ایریاز میں منتقل کر دیا گیا ہے تاکہ انہیں اس تپتی دھوپ سے دور رکھا جا سکے۔
