نئی دہلی: بھارت کے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے منگل کی شب اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ یہ فیصلہ ملک بھر میں جاری طلبہ کے شدید احتجاج کے بعد سامنے آیا ہے، جس نے حکومت کو دفاعی پوزیشن پر لا کھڑا کیا تھا۔ یہ مظاہرے میڈیکل کے داخلہ امتحان ’نیٹ‘ میں مبینہ بدعنوانی اور بے ضابطگیوں کے خلاف کیے جا رہے تھے۔
احتجاج کرنے والے طلبہ نے اپنی تحریک کو "کاکروچ ریبیلین” (لال بیگوں کی بغاوت) کا نام دیا تھا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اس مہم کا مقصد حکومتی بے حسی پر طنز کرنا تھا، جس کے بارے میں طلبہ کا کہنا تھا کہ انتظامیہ نے تعلیمی نظام میں موجود کرپشن کو دیمک کی طرح پھیلنے دیا ہے۔
تحقیقاتی اداروں کی جانب سے امتحان کے پرچے لیک ہونے اور شناخت کے فراڈ کی تصدیق کے بعد صورتحال مزید بگڑ گئی۔ حکومت نے ابتدائی طور پر ان الزامات کو مسترد کیا تھا، لیکن دہلی، پٹنہ اور جے پور جیسے بڑے شہروں میں طلبہ تنظیموں کے یکجا ہونے کے بعد دباؤ بڑھتا گیا۔
دہلی میں احتجاج کی قیادت کرنے والے طالب علم راہول ورما کہتے ہیں، "ہمارا مطالبہ صرف استعفیٰ نہیں تھا، بلکہ ہم یہ چاہتے تھے کہ حکومت تسلیم کرے کہ سسٹم اندر سے کھوکھلا ہو چکا ہے۔”
پردھان کا استعفیٰ موجودہ حکومت کے لیے ایک غیر معمولی سیاسی پسپائی ہے۔ ان کے جانے سے وزارت تعلیمی کیلنڈر کے سب سے اہم مرحلے پر بحرانی کیفیت کا شکار ہو گئی ہے۔ وزارت کے سینئر حکام نے اب نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی کے مکمل ڈھانچے کو تبدیل کرنے کا عندیہ دیا ہے، جو ان امتحانات کے انعقاد کی ذمہ دار ہے۔
تاہم، اپوزیشن جماعتیں اس اقدام کو ناکافی قرار دے رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف ایک وزیر کے جانے سے وہ گٹھ جوڑ ختم نہیں ہوگا جس کی وجہ سے پیپر لیک کا اسکینڈل سامنے آیا۔
اس وقت 20 لاکھ سے زائد طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے جنہوں نے امتحانات میں حصہ لیا تھا۔ وزارتِ تعلیم اب ان امتحانات کو دوبارہ منعقد کرنے اور ٹوٹے ہوئے اعتماد کو بحال کرنے جیسے مشکل چیلنج کا سامنا کر رہی ہے۔ یہ استعفیٰ تعلیمی نظام میں حقیقی اصلاحات کا نقطہ آغاز ثابت ہوگا یا محض عوامی غصے کو ٹھنڈا کرنے کی ایک کوشش، اس کا فیصلہ آنے والے دنوں میں ٹیسٹنگ کے نئے عمل سے ہوگا۔
