کراچی — قومی احتساب بیورو (نیب) نے اربوں روپے مالیت کے ییلو لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے میں مالی بے ضابطگیوں اور بدانتظامی کے خلاف باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ منصوبہ طویل عرصے سے تعطل کا شکار ہے جس کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
تفتیشی ٹیمیں منصوبے کے لیے مختص فنڈز، کنٹریکٹ کی الاٹمنٹ اور خریداری کے عمل کی جانچ پڑتال کر رہی ہیں۔ یہ کارروائی منصوبے کی لاگت میں غیر معمولی اضافے اور تعمیراتی کاموں کی ڈیڈ لائنز بار بار گزر جانے کے بعد عمل میں آئی ہے۔
برسوں سے ییلو لائن کا منصوبہ زیادہ تر کاغذوں اور ادھورے کنکریٹ کے ڈھانچوں تک محدود ہے۔ شہر کے مشرقی کوریڈور کے رہائشی، جنہیں داؤد چورنگی سے نمائش تک جدید سفری سہولت کا خواب دکھایا گیا تھا، اب برسوں سے ٹریفک جام، دھول اور نامکمل سڑکوں کے عذاب میں مبتلا ہیں۔ یہ منصوبہ شہر کے خستہ حال انفراسٹرکچر کی علامت بن چکا ہے۔
نیب ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ بیورو نے سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی (ایس ایم ٹی اے) اور متعلقہ ٹھیکیداروں سے منصوبے کا تفصیلی ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔ تحقیقات کا مقصد یہ تعین کرنا ہے کہ کیا عوامی فنڈز کو مہنگے بلوں کی آڑ میں خرد برد کیا گیا یا طویل تاخیر کے پیچھے منظم کرپشن کارفرما تھی۔
ییلو لائن کو کراچی کے ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کی ایک اہم شریان کے طور پر ڈیزائن کیا گیا تھا، جس کا مقصد روزانہ ڈیڑھ لاکھ مسافروں کو سفری سہولت فراہم کرنا تھا۔ بین الاقوامی فنڈنگ اور صوبائی حکومت کے اعلانات کے باوجود، گراؤنڈ پر کام کی رفتار انتہائی سست اور ٹکڑوں میں بٹی ہوئی ہے۔
نیب کے ایک سینئر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ پیسہ کہاں خرچ ہوا اور اس کے بدلے میں حقیقت میں کیا کام ہوا۔ مالیاتی رپورٹنگ میں پائے جانے والے خلا بہت بڑے ہیں۔”
صوبائی حکومت ماضی میں منصوبے کی سست روی کا ذمہ دار مہنگائی اور وفاقی فنڈز کی فراہمی میں تاخیر کو ٹھہراتی رہی ہے۔ تاہم، ملک کے سب سے بڑے احتساب ادارے کی مداخلت یہ ظاہر کرتی ہے کہ ان انتظامی عذروں کے پیچھے مالی بدعنوانی کی گہری تہیں چھپی ہو سکتی ہیں۔
جیسے جیسے نیب کی تحقیقات کا دائرہ کار وسیع ہو رہا ہے، ییلو لائن کا مستقبل اب اس بات پر منحصر ہے کہ تفتیش کار ان معاہدوں کی گتھی کیسے سلجھاتے ہیں جنہوں نے کراچی کے مسافروں کو سڑکوں پر دھکے کھانے پر مجبور کر رکھا ہے۔ فی الحال، منصوبے کی بھاری مشینری خاموش کھڑی ہے اور احتساب کا عمل ابھی اپنے ابتدائی مراحل میں ہے۔
