غزہ میں اسرائیلی فضائی کارروائیوں کے دوران بازاروں اور امدادی مراکز کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں 10 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔ یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے جب بے گھر ہونے والے خاندان خوراک اور بنیادی ضرورت کی اشیاء کی تلاش میں ان مقامات پر موجود تھے۔
حماس نے ان حملوں کو "نیا جنگی جرم” قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اسرائیل جان بوجھ کر ان مقامات کو نشانہ بنا رہا ہے جہاں عام شہریوں کا ہجوم ہوتا ہے، تاکہ زیادہ سے زیادہ جانی نقصان ہو سکے۔
عینی شاہدین کے مطابق نصیرات کے بازار اور شمالی غزہ کے امدادی پوائنٹ پر ہونے والے دھماکوں کے بعد افراتفری پھیل گئی۔ بازاروں میں موجود لوگ جان بچانے کے لیے ادھر ادھر بھاگتے رہے، لیکن فضائی حملوں کی شدت نے انہیں سنبھلنے کا موقع نہیں دیا۔
اسرائیلی فوج نے معمول کے مطابق ان حملوں پر کوئی تفصیلی وضاحت نہیں دی، تاہم ان کا موقف ہے کہ وہ حماس کے عسکری ڈھانچوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ دوسری جانب حماس نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل شہری تنصیبات کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
غزہ میں جاری اس کشیدگی نے پہلے سے موجود انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ شمالی غزہ میں قحط جیسی صورتحال ہے اور تازہ حملوں کے بعد خوراک اور ادویات کی فراہمی تقریباً ناممکن ہو چکی ہے۔
زمینی حقائق یہ ہیں کہ غزہ کے باسیوں کے لیے پیٹ بھرنے کی تلاش اب بارود کے ڈھیر پر چلنے کے مترادف ہو چکی ہے۔ جنگ بندی کی تمام تر سفارتی کوششیں تاحال بے سود ثابت ہو رہی ہیں، اور عام شہری ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید خوف اور غیر یقینی صورتحال میں گھرتے جا رہے ہیں۔
