آسٹریلیا کے سیفٹی ریگولیٹر اور گیمنگ پلیٹ فارم ‘روبلوکس’ کے درمیان بچوں کی آن لائن حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم معاہدہ طے پا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد بچوں کو پلیٹ فارم پر موجود ممکنہ خطرات اور غیر اخلاقی مواد سے محفوظ رکھنا ہے۔
آسٹریلیا کی ای سیفٹی کمشنر جولی اِن مین گرانٹ نے کئی ماہ کی تحقیق کے بعد روبلوکس پر دباؤ ڈالا تھا کہ وہ اپنے پلیٹ فارم کی مانیٹرنگ کو مزید سخت کرے۔ روبلوکس کے لیے یہ معاہدہ صرف ایک رسمی کارروائی نہیں، بلکہ اپنے ورچوئل ماحول کو تبدیل کرنے کا ایک لازمی تقاضا ہے۔
نئے معاہدے کے تحت روبلوکس کو اب اپنی ماڈریشن (مواد کی جانچ) کے عمل میں شفافیت لانا ہوگی۔ پلیٹ فارم پابند ہے کہ وہ بچوں کے ساتھ بدسلوکی کی شکایات پر فوری کارروائی کرے اور اس حوالے سے آسٹریلوی حکام کو سہ ماہی رپورٹس جمع کرائے۔ اگر کمپنی ان معیارات پر پورا نہ اتری تو اسے بھاری جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
والدین کے لیے سب سے بڑی تبدیلی بچوں کے اکاؤنٹس پر سخت کنٹرول کا حصول ہے۔ روبلوکس نے وعدہ کیا ہے کہ وہ پیرنٹل کنٹرولز کو مزید سادہ بنائے گا، جس سے والدین اپنے بچوں کی فرینڈ لسٹ اور انجان افراد سے بات چیت پر بہتر نگرانی رکھ سکیں گے۔ آن لائن گرومنگ اور بچوں کے استحصال کے واقعات کو روکنے کے لیے یہ فیچر سب سے اہم سمجھا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ روبلوکس کا بزنس ماڈل، جو صارفین کے تیار کردہ مواد پر مبنی ہے، حفاظتی اقدامات کے لیے ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔ آسٹریلیا کی جانب سے اس معاہدے کے بعد اب دیگر ممالک بھی اسی طرز کے اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔
روبلوکس کے سامنے اب واضح راستہ ہے: یا تو اپنے ماحول کو محفوظ بنائے یا پھر ریگولیٹرز کی سخت کارروائی کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہے۔ اس معاہدے کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ کمپنی ان وعدوں کو عملی جامہ کیسے پہناتی ہے۔
