پومپی کے ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے ایک نایاب اور شاندار چھت کو ہزاروں بکھرے ہوئے ٹکڑوں کو جوڑ کر دوبارہ تعمیر کر لیا ہے۔ یہ چھت، جو تقریباً دو ہزار سال قبل آتش فشاں کے لاوے کے نیچے دب گئی تھی، اب ایک قدیم گھر کے مرکزی کمرے کی چھت پر بنے دیومالائی منظر کو دوبارہ زندہ کر رہی ہے۔
یہ دریافت پومپی کے ‘ریجیو IX’ ضلع میں ہوئی۔ ماہرین کو یہ چھت ثابت حالت میں نہیں ملی، بلکہ اسے ایک پہیلی کی طرح ہزاروں باریک ٹکڑوں سے جوڑا گیا ہے۔ کچھ ٹکڑے تو سکے سے بھی چھوٹے تھے، جنہیں جوڑنے میں ماہرین کو مہینوں کی محنت درکار ہوئی۔
اس چھت پر بنی تصویر میں دیومالائی کرداروں اور علامات کو گہرے سرخ اور زرد رنگوں میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ پومپی کے فنِ تعمیر کا ایک خاص انداز ہے، جس کا مقصد مہمانوں کو متاثر کرنا اور گھر کے مالک کی سماجی حیثیت اور ذوق کی عکاسی کرنا تھا۔
پومپی کے آثارِ قدیمہ پارک کے ایک پروجیکٹ لیڈ کا کہنا ہے کہ "عام طور پر ہمیں فرش یا دیواریں ملتی ہیں۔ کسی چھت کا مکمل مل جانا تقریباً ناممکن سمجھا جاتا ہے۔ اس دریافت نے ہمیں ان گھروں کے فنِ تعمیر کو سمجھنے کا ایک نیا زاویہ فراہم کیا ہے۔”
اس چھت کی تیاری میں استعمال ہونے والی تکنیک قدیم رومن کاریگروں کی مہارت کا ثبوت ہے۔ پلاسٹر پر رنگوں کے ساتھ ساتھ اسے ابھار کر گہرائی پیدا کی گئی ہے، اور ماہرین کا ماننا ہے کہ اس پر سونے کے ورق کا کام بھی کیا گیا تھا، جو چراغوں کی روشنی میں چمکتا ہوگا۔
یہ دریافت ‘ریجیو IX’ میں جاری کھدائی کا حصہ ہے۔ پومپی کے بہت سے حصے لوٹ مار یا وقت کی مار کی وجہ سے تباہ ہو چکے ہیں، مگر یہ کمرہ آتش فشاں کی راکھ کی موٹی تہہ کے نیچے محفوظ رہا، جس نے اسے بیرونی اثرات سے بچائے رکھا۔
بحال شدہ چھت کو مستقبل میں پومپی کے مقامی عجائب گھر میں رکھا جائے گا۔ یہ دریافت اس شہر کے ان گنت رازوں میں سے ایک ہے جو صدیوں بعد بھی اپنے اندر چھپے انسانی فن اور تاریخ کو ایک ایک ٹکڑے کی صورت میں آشکار کر رہی ہے۔
