حکومت نے جمعہ کی رات پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑی کمی کا اعلان کر دیا ہے۔ 25 جولائی 2026 سے پیٹرول کی قیمت میں 15 روپے فی لیٹر کمی کر دی گئی ہے، جس کے بعد ریلیف کا یہ اقدام مہنگائی کی چکی میں پسے عوام کے لیے ایک خوش آئند خبر ہے۔
ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 12 روپے فی لیٹر کی کٹوتی کی گئی ہے۔ یہ فیصلہ عالمی منڈی میں خام تیل کے نرخوں میں کمی اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں معمولی بہتری کے بعد کیا گیا ہے۔
عام شہری کے لیے اس کا مطلب سیدھا ہے: گاڑی کی ٹنکی اب کل کی نسبت 7 فیصد سستی بھرے گی۔ مگر ٹرانسپورٹ یونینز کا رویہ اب بھی محتاط ہے۔ ایندھن سستا ہونے کے باوجود پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں تاحال کوئی کمی نہیں دیکھی گئی، جس کے باعث مسافر پرانے نرخوں پر ہی سفر کرنے پر مجبور ہیں۔
لاہور میں لاجسٹکس کوآرڈینیٹر ارشد خان کا کہنا ہے کہ "ہم نے پٹرول پمپ پر قیمت کم ہوتے دیکھی ہے، لیکن اشیائے خوردونوش کی نقل و حمل کے اخراجات میں ایک دھیلے کی کمی نہیں آئی۔ جب تک فریٹ چارجز کم نہیں ہوتے، عام آدمی کو اس ریلیف کا اصل فائدہ نہیں ملے گا۔”
حکومت کی جانب سے یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسے معاشی بحران کے باعث شدید عوامی دباؤ کا سامنا ہے۔ وزارت خزانہ کے حکام کے مطابق، نئی قیمتوں کا تعین گزشتہ 14 دنوں کے دوران درآمدی پیٹرولیم مصنوعات کی اوسط قیمت کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔
اگرچہ یہ کمی فوری ریلیف ہے، تاہم توانائی کے ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ کے پیش نظر یہ ریلیف عارضی ہو سکتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی سپلائی چین کے لیے بدستور خطرہ ہے، جس کا براہِ راست اثر مقامی معیشت پر پڑتا ہے۔
فی الحال، یہ نئی قیمتیں اگلے پندرہ روز تک نافذ رہیں گی۔ کیا یہ کمی سبزی منڈی اور کریانہ اسٹورز تک پہنچے گی یا صرف پیٹرول پمپ تک محدود رہے گی؟ یہ وہ سوال ہے جس پر ماہرینِ معاشیات اور عوام کے درمیان بحث جاری ہے۔
