جنوبی کوریا کی وزارتِ داخلہ کے مطابق رواں موسم گرما کے دوران شدید گرمی اور ہیٹ اسٹروک سے ہلاکتوں کی تعداد 16 تک پہنچ گئی ہے۔ ملک کے بیشتر حصوں میں درجہ حرارت مسلسل 35 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر ہے، جبکہ شدید حبس نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
مرنے والوں میں زیادہ تر عمر رسیدہ افراد شامل ہیں جو دیہی علاقوں میں کھیتوں میں کام کر رہے تھے۔ حکومت کی جانب سے دوپہر کے اوقات میں باہر نکلنے اور کام کرنے سے گریز کی بارہا تنبیہ کے باوجود، یہ طبقہ ہی سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔
محکمہ موسمیات نے فی الحال کسی ریلیف کی نوید نہیں سنائی۔ ملک بھر میں ہیٹ ویو کا الرٹ بدستور نافذ ہے، اور نمی کا تناسب ’محسوس ہونے والے‘ درجہ حرارت کو مزید بڑھا رہا ہے۔ سیئول جیسے بڑے شہروں میں ’اربن ہیٹ آئی لینڈ‘ اثر کے باعث رات کے وقت بھی درجہ حرارت کم نہیں ہو رہا، جس سے انسانی جسم کو دن بھر کی تھکن اتارنے کا موقع نہیں مل پا رہا۔
صحت کے حکام ایمرجنسی رومز میں مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر تشویش کا شکار ہیں۔ مئی کے آخر سے اب تک 1,500 سے زائد افراد ہیٹ اسٹروک اور پانی کی کمی کے باعث ہسپتال پہنچ چکے ہیں۔ یہ تعداد گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔
حکومتی ردِعمل اب تک ہنگامی نوعیت کا ہے۔ وزارتِ داخلہ نے عوامی مقامات پر کولنگ مسٹ سسٹمز نصب کیے ہیں اور کمزور طبقوں میں پانی اور نمکیات کی فراہمی شروع کی ہے۔ تاہم، زرعی شعبے سے وابستہ افراد کے لیے یہ اقدامات ناکافی ثابت ہو رہے ہیں۔
ماہرینِ ماحولیات کا کہنا ہے کہ مانسون کے بدلتے پیٹرن نے گرمی کو ایک نئے اور خطرناک رخ پر ڈال دیا ہے۔ ہوا میں موجود نمی جسم کی گرمی کو باہر نہیں نکلنے دیتی، جس سے معمولی جسمانی مشقت بھی جان لیوا ثابت ہو رہی ہے۔
سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ کیا کوریا کا موجودہ انفراسٹرکچر، جو ماضی کے معتدل موسموں کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا، اب بدلتے ہوئے موسمی حالات کا مقابلہ کر سکے گا؟ فی الحال وزارتِ داخلہ کی طرف سے وہی پرانا مشورہ دیا جا رہا ہے: گھروں میں رہیں اور پانی کا زیادہ استعمال کریں۔ لیکن گرمی کا عروج ابھی باقی ہے، اور یہ مشورہ ان لوگوں کے لیے بے معنی ہے جنہیں اپنا پیٹ پالنے کے لیے تپتی دھوپ میں نکلنا ہی پڑتا ہے۔
