پاکستان نے اپنے زرمبادل کے ذخائر کو سہارا دینے اور مالیاتی دباؤ کم کرنے کے لیے چین سے 1.3 ارب ڈالر کے کمرشل قرضوں کی ری فنانسنگ (واپسی کی مدت میں توسیع) کی باضابطہ درخواست کر دی ہے۔
وزارت خزانہ کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ بیجنگ کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، تاہم حکام نے اس بات پر خاموشی اختیار کی ہے کہ چین کی جانب سے اس درخواست کی منظوری کب تک متوقع ہے۔ یہ رقم ان قرضوں کی مد میں ہے جن کی ادائیگی کی تاریخ قریب آ رہی ہے۔
یہ درخواست پاکستان کی نازک معاشی صورتحال کے پیش نظر دی گئی ہے۔ اگرچہ عالمی مالیاتی فنڈ کے 7 ارب ڈالر کے پروگرام سے ملکی معیشت کو وقتی سہارا ملا ہے، لیکن حکومت کو رواں مالی سال کے دوران بیرونی قرضوں کی بھاری قسطیں ادا کرنی ہیں۔
اس ری فنانسنگ کی منظوری سے اسلام آباد کو درکار مالی گنجائش ملے گی۔ اگر یہ رقم رول اوور نہ ہوئی تو حکومت کو اپنے ان ذخائر سے ادائیگی کرنی پڑے گی جو پہلے ہی بمشکل دو ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں۔
چین پاکستان کا سب سے بڑا دو طرفہ قرض دہندہ ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران بیجنگ کئی بار پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچانے کے لیے لیکویڈیٹی سپورٹ اور قرضوں کی مدت میں توسیع جیسے اقدامات کر چکا ہے۔ موجودہ درخواست بھی اسی روایتی مالیاتی تعاون کا تسلسل ہے جس پر اسلام آباد کا انحصار بڑھتا جا رہا ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق یہ اقدام ناگزیر ہے۔ پاکستان کی بیرونی فنانسنگ کا خلا اب بھی وسیع ہے، جبکہ بلند شرح سود اور ملکی کریڈٹ ریٹنگ کے باعث پاکستان کے لیے عالمی مارکیٹ سے نئے قرضے حاصل کرنا فی الحال ممکن نہیں ہے۔
کراچی کے ایک ماہر معاشیات نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "یہ رول اوور دراصل معیشت کو چلانے کا ایک ہتھکنڈا ہے۔ یہ قرضوں کے پائیدار حل کی طرف سفر نہیں، بلکہ صرف وقت خریدنے کا عمل ہے تاکہ ذخائر کو خطرناک حد تک گرنے سے بچایا جا سکے۔”
وزارت خزانہ کا یہ قدم ظاہر کرتا ہے کہ آئی ایم ایف ڈیل کے باوجود حکومت کی مالیاتی پالیسی تاحال دفاعی انداز میں ہے۔ جب تک پاکستان اپنی برآمدات میں اضافہ یا براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے ذریعے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو قابو نہیں کرتا، اسے اپنے قرضوں کی ادائیگی کے لیے دوست ممالک کے تعاون پر ہی انحصار کرنا پڑے گا۔
اب گیند بیجنگ کے کورٹ میں ہے۔ اگر چین نے اس درخواست کو قبول کر لیا تو 1.3 ارب ڈالر کی ادائیگی کا بوجھ آگے منتقل ہو جائے گا، جس سے معاشی ٹیم کو اگلی ڈیڈ لائن تک معاملات کو سنبھالنے کے لیے کچھ مزید وقت مل جائے گا۔
