وزیراعظم شہباز شریف اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کے درمیان چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے لیے اب تک کوئی باضابطہ مشاورت شروع نہیں ہو سکی ہے۔ موجودہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی مدت ملازمت دسمبر میں ختم ہو رہی ہے، لیکن سیاسی محاذ پر جاری کشیدگی نے اس اہم آئینی تقرری کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔
آئین کے مطابق، نئے چیف الیکشن کمشنر کے نام پر وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کا اتفاق رائے ضروری ہے۔ اگر دونوں رہنما کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے تو معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے پاس جائے گا۔ تاہم، حکومتی اتحاد اور تحریک انصاف کے درمیان موجود خلیج کو دیکھتے ہوئے اس بات کا قوی امکان ہے کہ یہ معاملہ کسی تعطل کا شکار ہو جائے گا۔
الیکشن کمیشن کو 8 فروری کے عام انتخابات کے بعد سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔ اپوزیشن جماعتیں دھاندلی اور بدانتظامی کے سنگین الزامات عائد کر چکی ہیں، جس سے ادارے کی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ حکومت کے لیے اپنی پسند کا چیف الیکشن کمشنر لانا مستقبل کے انتخابی عمل پر کنٹرول حاصل کرنے کے مترادف ہے، جبکہ تحریک انصاف اس تقرری کو اپنے خلاف مزید کارروائیوں کو روکنے کے لیے ایک دفاعی مورچے کے طور پر دیکھ رہی ہے۔
پی ٹی آئی کے ایک سینئر رہنما نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "ہمیں تاحال مذاکرات کی کوئی باضابطہ دعوت نہیں ملی۔” دوسری جانب حکومتی وزراء کا موقف ہے کہ مشاورت کا عمل "مناسب وقت” پر شروع کیا جائے گا، تاہم حکومتی ترجمانوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ مناسب وقت کب آئے گا۔
ماضی میں بھی اہم آئینی عہدوں پر تقرریوں میں تاخیر ہوتی رہی ہے، لیکن موجودہ سیاسی منظرنامہ زیادہ حساس ہے۔ حکومت جہاں ایک طرف آئینی ترامیم کے لیے کوشاں ہے، وہیں اپوزیشن ملک گیر احتجاج کی دھمکیاں دے رہی ہے۔ ایسے میں چیف الیکشن کمشنر کا عہدہ ایک سیاسی سودے بازی کا ٹول بنتا دکھائی دے رہا ہے۔
آئینی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر دسمبر کی ڈیڈ لائن تک تقرری نہ ہو سکی تو ملک ایک نئے آئینی بحران میں دھنسا جا سکتا ہے۔ ماضی کے تجربات بتاتے ہیں کہ جب سیاسی حریف بات چیت سے گریز کرتے ہیں، تو عدلیہ کو غیر ضروری طور پر اس تنازع میں گھسیٹا جاتا ہے، جس سے ادارے مزید دباؤ کا شکار ہوتے ہیں۔
دسمبر قریب آ رہا ہے، لیکن وزیر اعظم ہاؤس اور اپوزیشن بنچوں کے درمیان خاموشی برقرار ہے۔ عوام اس انتظار میں ہیں کہ آیا یہ تقرری واقعی مشاورت سے ہو گی یا پھر اسی سیاسی رسہ کشی کی نذر ہو جائے گی جس نے گزشتہ کئی ماہ سے پارلیمان کو مفلوج کر رکھا ہے۔
