برطانیہ کی ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی نے میکسیکو سے واپس آنے والے سیاحوں میں ‘سائیکلوسپورا’ نامی جراثیمی انفیکشن کے کیسز میں اچانک اضافے کی تصدیق کی ہے۔
موسم گرما کے آغاز سے اب تک درجنوں تصدیق شدہ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔ اگرچہ یہ بیماری جان لیوا نہیں، لیکن اس سے شدید پیٹ کی خرابی، مسلسل دست، مروڑ اور پیٹ پھولنے جیسی تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
زیادہ تر متاثرہ افراد نے میکسیکو کے ریویرا مایا اور کینکون کے ‘آل انکلوسیو’ ریزورٹس میں قیام کیا تھا۔ یہ انفیکشن آلودہ خوراک یا پانی کے ذریعے پھیلتا ہے، خاص طور پر جب پھلوں اور سبزیوں کو مقامی نلوں کے پانی سے دھویا جاتا ہے۔
کے ترجمان کا کہنا ہے کہ "ہم میکسیکو سے واپس آنے والے مسافروں میں انفیکشن کے پھیلاؤ کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ جو افراد حال ہی میں وہاں سے لوٹے ہیں اور مسلسل علامات کا شکار ہیں، انہیں فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔”
یہ جراثیم عام طبی ٹیسٹوں میں آسانی سے پکڑا نہیں جاتا۔ اکثر مریضوں کو غلطی سے عام فوڈ پوائزننگ یا وائرل گیسٹرو کا شکار سمجھ لیا جاتا ہے۔ ہیلتھ ایجنسی نے ملک بھر کے جنرل پریکٹیشنرز کو ہدایت جاری کی ہے کہ اگر کوئی مریض میکسیکو سے واپسی کے بعد مسلسل دست کی شکایت کرے، تو خاص طور پر سائیکلوسپورا کے لیے ٹیسٹ تجویز کریں۔
میکسیکو میں یہ انفیکشن کوئی نئی بات نہیں۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران سیاحتی سیزن کے عروج پر ایسے کیسز سامنے آتے رہے ہیں۔ یہ جراثیم عام جراثیم کش ادویات کے خلاف مزاحمت رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے گرم مرطوب علاقوں میں غذائی تحفظ کے معیارات برقرار رکھنا ایک مستقل چیلنج ہے۔
انفیکشن کی علامات عام طور پر جراثیم کے جسم میں داخل ہونے کے ایک ہفتے کے اندر ظاہر ہوتی ہیں۔ اگر اس کا علاج مخصوص اینٹی بائیوٹکس اور سے نہ کیا جائے تو یہ بیماری ہفتوں یا مہینوں تک برقرار رہ سکتی ہے، جس سے شدید کمزوری اور پانی کی کمی واقع ہو سکتی ہے۔
صحت کے حکام نے سیاحوں کو مشورہ دیا ہے کہ میکسیکو میں قیام کے دوران صرف بوتل بند پانی کا استعمال کریں اور ایسے پھل یا سبزیاں کھانے سے گریز کریں جنہیں چھیلا نہ جا سکے۔ جو سیاح پہلے ہی علامات کا شکار ہیں، انہیں بروقت علاج کی ضرورت ہے تاکہ انفیکشن کو مزید بگڑنے سے روکا جا سکے۔
