برطانیہ کے محکمہ موسمیات (میٹ آفس) نے 2026-2027 کے سیزن کے لیے متوقع طوفانوں کے ناموں کی نئی فہرست جاری کر دی ہے۔ یہ فہرست آئرلینڈ کے محکمہ موسمیات اور نیدرلینڈز کے کے ساتھ مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے، جس کا مقصد شدید موسم کے دوران عوام کو بروقت خبردار کرنا اور ہنگامی صورتحال میں بہتر رابطہ کاری ہے۔
یہ نئی فہرست یکم ستمبر 2026 سے نافذ العمل ہوگی۔ طوفانوں کو نام دینے کا عمل محض ایک رسمی کارروائی نہیں، بلکہ اس کا بنیادی مقصد عوام میں ہنگامی صورتحال کے حوالے سے سنجیدگی پیدا کرنا ہے۔ جب کسی موسمی نظام کو نام دیا جاتا ہے، تو میڈیا اور حکومتی ادارے اسے ایک خاص "توجہ” کے ساتھ مانیٹر کرتے ہیں، جس سے شہری اپنی حفاظت کے لیے بروقت اقدامات کر سکتے ہیں۔
میٹ آفس کے ایک ترجمان نے بتایا کہ نام دینے کا مقصد طوفان کے خطرے کو واضح کرنا ہے۔ جب کسی سسٹم کو ایک پہچان مل جاتی ہے، تو عام آدمی کے لیے اس کے خطرات کا اندازہ لگانا اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنا آسان ہو جاتا ہے۔
فہرست کے کچھ اہم ناموں میں درج ذیل شامل ہیں:
* A: ارون (Arwen)
* B: بربری (Bairbre)
* C: کیارا (Ciara)
* D: ڈارا (Darragh)
* E: ایون (Ewan)
* F: فلورا (Flora)
(بین الاقوامی اصولوں کے مطابق فہرست میں Q، U، X، Y اور Z کو شامل نہیں کیا گیا)۔
موسمیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ شمالی بحر اوقیانوس میں طوفانوں کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں ایسے واقعات بڑھے ہیں جہاں طوفان بہت کم وقت میں غیر معمولی طور پر طاقتور ہو جاتے ہیں۔ 2026-2027 کا سیزن موسمیاتی تبدیلیوں کے تناظر میں خاصا اہم ہوگا، جہاں نگرانی کا عمل پہلے سے زیادہ سخت کیا جائے گا۔
2015 میں شروع ہونے والے اس مشترکہ منصوبے کو عالمی سطح پر سراہا گیا ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جب کسی طوفان کو نام دیا جاتا ہے، تو عوام کی جانب سے وارننگز پر ردعمل دینے کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔ میٹ آفس کو امید ہے کہ یہ نئی فہرست بھی شہریوں کو متحرک رکھنے میں معاون ثابت ہوگی۔
یہ بارہواں سال ہے جب تینوں ممالک مل کر یہ فہرست جاری کر رہے ہیں۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ جب بحر اوقیانوس سے یکے بعد دیگرے کئی کم دباؤ والے سسٹم داخل ہوتے ہیں، تو ناموں کی وجہ سے عوام میں الجھن پیدا نہیں ہوتی۔
فہرست جاری ہونے کے بعد اب تمام تر توجہ موسمِ خزاں پر مرکوز ہے۔ جونہی کوئی موسمی نظام خطرے کی علامت بنے گا، فہرست کا پہلا نام اس کے ساتھ منسلک کر دیا جائے گا۔
