متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم) نے ملک میں نئے انتظامی یونٹس، خاص طور پر سندھ کی تقسیم کے مطالبے کو دوبارہ اٹھاتے ہوئے اپنی مہم کو تیز کر دیا ہے۔ کراچی میں اتوار کو ہونے والے ایک جلسے کے دوران پارٹی قیادت نے اس اقدام کو اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کا واحد حل قرار دیا۔
ایم کیو ایم کے لیے یہ محض سیاسی بیان بازی نہیں بلکہ بقا کا سوال ہے۔ 2013 کے بعد سے پارٹی کے اثر و رسوخ میں آنے والی کمی کے پیشِ نظر، نئے صوبوں یا شہری مراکز کو انتظامی خود مختاری دینے کا مطالبہ ووٹرز کو دوبارہ متحرک کرنے کی ایک کوشش ہے۔
کراچی میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے سینئر رہنما مصطفیٰ کمال نے کہا کہ "ہم ملک کی تقسیم نہیں، انتظامی بوجھ کی تقسیم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔” ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صوبائی ڈھانچے میں شہری مراکز فنڈز سے محروم ہیں اور وسائل کا بڑا حصہ صوبائی دارالحکومت تک محدود ہے۔
اس مہم کا وقت انتہائی سوچ سمجھ کر چنا گیا ہے۔ وفاقی حکومت کی معاشی مشکلات کے درمیان، ایم کیو ایم خود کو مقامی طرزِ حکمرانی کے چیمپئن کے طور پر پیش کر رہی ہے۔ ان کا موقف ہے کہ 18ویں ترمیم کے تحت وفاق سے صوبوں کو منتقل ہونے والے اختیارات نچلی سطح تک نہیں پہنچے۔ ان کے نزدیک یہ اختیارات اسلام آباد سے کراچی منتقل تو ہوئے، مگر سندھ کے دیگر اضلاع بدستور پسماندگی کا شکار ہیں۔
دوسری جانب، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے اس مطالبے کو "تقسیم کی سیاست” قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ سندھ اسمبلی میں مضبوط گرفت رکھنے والی پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی گفتگو صوبے کے سماجی تانے بانے کے لیے خطرناک ہے۔ ان کے نزدیک ایم کیو ایم کا یہ مطالبہ کراچی کے بنیادی میونسپل مسائل حل کرنے میں ناکامی پر توجہ ہٹانے کا ایک حربہ ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایم کیو ایم کے لیے یہ راستہ آسان نہیں ہے۔ نئے صوبے کے قیام کے لیے آئینی ترمیم درکار ہے، جس کے لیے پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہوتی ہے، جو اس وقت کسی ایک جماعت کے پاس نہیں ہے۔
قانونی رکاوٹوں کے باوجود، ایم کیو ایم کا خیال ہے کہ اس معاملے کو خبروں میں رکھنے سے وفاقی حکومت پر دباؤ بڑھے گا کہ وہ مقامی حکومتوں کو مزید مالی اختیارات دینے پر مجبور ہو۔ یہ ایک بڑا سیاسی داؤ ہے۔ اگر وہ زیادہ زور دیں گے تو تنہائی کا شکار ہو سکتے ہیں، اور اگر پیچھے ہٹے تو وہ بیانیہ کھو دیں گے جس پر ان کی سیاست کی بنیاد ہے۔
فی الحال ایم کیو ایم نے واضح کیا ہے کہ یہ مہم ابھی ایک شروعات ہے۔ یہ مطالبہ پالیسی میں تبدیلی لائے گا یا محض سیاسی نعرہ بازی ثابت ہوگا، یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا، لیکن اس نے سندھ کے شہری مراکز اور صوبائی حکومت کے درمیان موجود خلیج کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔
