بجلی کے وہ صارفین جو 200 یونٹ تک کی لائف لائن سبسڈی حاصل کر رہے ہیں، انہیں ایک سخت وارننگ جاری کر دی گئی ہے: اگر انہوں نے فوری طور پر لازمی ’کیو آر کوڈ‘ رجسٹریشن مکمل نہ کروائی تو وہ اس رعایت سے محروم ہو جائیں گے۔
یہ اقدام پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی جانب سے تصدیق کے عمل کو شفاف بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ حکام کا موقف ہے کہ پرانا دستی نظام غلطیوں اور سبسڈی کے غلط استعمال کا باعث بن رہا تھا، جس کی وجہ سے مستحق افراد کے بجائے غیر مستحق گھرانے بھی اس رعایت سے فائدہ اٹھا رہے تھے۔
نئے سسٹم کے تحت، صارفین کو اپنے ماہانہ بل پر موجود کیو آر کوڈ کو اسکین کرنا ہوگا یا متعلقہ یوٹیلیٹی پورٹل کے ذریعے اپنے میٹر کو ڈیجیٹل ڈیٹا بیس سے لنک کرنا ہوگا۔ جو صارفین اگلے بلنگ سائیکل تک یہ عمل مکمل نہیں کریں گے، انہیں خودکار طریقے سے سبسڈی کی فہرست سے نکال دیا جائے گا۔
پاور ڈویژن کے ایک اعلیٰ افسر نے اس تبدیلی پر بات کرتے ہوئے کہا، "ہمارا مقصد واضح ہے؛ سبسڈی صرف ان لوگوں تک پہنچے جو واقعی اس کے حقدار ہیں۔ ہم نے دیکھا کہ زیادہ بجلی استعمال کرنے والے گھرانے بھی اس نظام کا غلط فائدہ اٹھا رہے تھے، اب یہ ڈیجیٹل آڈٹ اس راستے کو بند کر دے گا۔”
یہ فیصلہ خاص طور پر ان علاقوں میں مشکلات پیدا کر رہا ہے جہاں انٹرنیٹ کی سہولت محدود ہے۔ کئی صارفین رجسٹریشن کے عمل سے متعلق الجھن کا شکار ہیں، جس کے باعث مقامی کسٹمر سروس مراکز پر لوگوں کا رش بڑھ گیا ہے جو ڈیجیٹل تقاضوں کو سمجھنے اور انہیں پورا کرنے کے لیے مدد کے طلبگار ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ڈیجیٹل تفریق کو نظر انداز کرتا ہے۔ ایک ایسا خاندان جو بجلی کے بل ادا کرنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہو، اس کے لیے اسمارٹ فون اور انٹرنیٹ کا استعمال کرتے ہوئے کیو آر کوڈ کے ذریعے تصدیق کروانا ایک بڑی رکاوٹ ہے۔
لائف لائن ٹیرف پر انحصار کرنے والوں کے لیے یہ معاملہ سنگین ہے۔ اگر سبسڈی ختم ہوئی تو ان کا بل عام کمرشل سلیب کے مطابق آئے گا، جس سے ماہانہ اخراجات میں 30 سے 50 فیصد تک اضافہ متوقع ہے۔
یوٹیلیٹی کمپنیوں کا موقف ہے کہ یہ تبدیلی ناگزیر ہے۔ انہوں نے صارفین کو ہدایت کی ہے کہ اگر وہ آن لائن رجسٹریشن نہیں کر سکتے، تو اپنے قریبی کسٹمر فیسیلیٹیشن سینٹر سے رجوع کریں۔
ڈیڈ لائن قریب آتے ہی اب ذمہ داری مکمل طور پر صارف پر عائد ہوتی ہے۔ اگر موجودہ بلنگ پیریڈ کے اختتام تک میٹر سسٹم میں تصدیق شدہ نہیں ہوا، تو سبسڈی ختم کر دی جائے گی—خواہ آپ کا بجلی کا استعمال 200 یونٹ سے کم ہی کیوں نہ ہو۔
