آزاد جموں و کشمیر کے چیف الیکشن کمشنر نے پونچھ ڈویژن میں التوا کا شکار بلدیاتی انتخابات کے لیے نئی تاریخوں کا عندیہ دے دیا ہے۔ کمیشن کی جانب سے جاری کردہ ابتدائی پلان کے مطابق، اگر تمام تر انتظامات بروقت مکمل کر لیے گئے تو پولنگ کا عمل 20 اور 21 اگست کو منعقد ہوگا۔
پونچھ ڈویژن کے عوام گزشتہ کئی ماہ سے مقامی نمائندوں کے بغیر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ بلدیاتی نظام کی عدم موجودگی کا براہِ راست اثر صفائی، نکاسیِ آب اور بنیادی ترقیاتی کاموں پر پڑا ہے، جہاں ضلعی انتظامیہ بغیر کسی منتخب نگرانی کے فرائض سرانجام دے رہی ہے۔ انتخابات میں تاخیر نے نہ صرف سیاسی درجہ حرارت بڑھایا ہے بلکہ عوامی مسائل کے حل کی راہ میں بھی رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں۔
الیکشن کمیشن کے ذرائع کے مطابق، اگست کے وسط میں انتخابات کروانے کا فیصلہ سیکیورٹی اور انتظامی امور کو مدنظر رکھ کر کیا گیا ہے۔ تاہم، حتمی شیڈول کا انحصار سیکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی اور ریٹرننگ افسران کی باقاعدہ نوٹیفکیشن پر ہے۔ کمیشن اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہا ہے کہ انتخابی عمل سیاسی رسہ کشی سے پاک رہے، لیکن وقت کی کمی ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔
اپوزیشن جماعتوں نے اس اعلان پر محتاط ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں دی گئی ڈیڈ لائنز پر عمل نہ ہونا ایک تلخ حقیقت ہے، جس کی وجہ سے عوام کا اعتماد متزلزل ہوا ہے۔ سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس بار بھی انتخابات میں تاخیر ہوئی تو یہ حکومتی ساکھ کے لیے ایک بڑا دھچکا ہوگا۔
الیکشن کمیشن اب ضابطہ اخلاق کی تیاری میں مصروف ہے، جس کے رواں ہفتے جاری ہونے کا امکان ہے۔ پولنگ کے لیے ہزاروں کی تعداد میں عملے کی تعیناتی اور حساس علاقوں میں سیکیورٹی کا انتظام کرنا کمیشن کے لیے ایک کٹھن امتحان ہوگا۔
پونچھ کے ووٹرز اب بھی ایک غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔ بیلٹ پیپرز کی ترسیل اور پولنگ اسٹیشنز پر عملے کی موجودگی ہی یہ ثابت کرے گی کہ کیا حکومت اس بار اپنے وعدے کو عملی جامہ پہنا پائے گی یا یہ تاریخ بھی محض ایک اعلان تک محدود رہے گی۔
