تہران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے نئی اور سخت شرائط پیش کر دی ہیں، جس کے باعث عالمی سطح پر پیدا ہونے والے سفارتی تناؤ میں کمی کی حالیہ امیدیں دم توڑتی نظر آ رہی ہیں۔
ایرانی حکومت کے قریب سمجھے جانے والے ذرائع کے مطابق، تہران نے منگل کی رات نئی شرائط پیش کیں، جن کے بعد بین الاقوامی مذاکرات کاروں کے لیے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ گزشتہ ایک ہفتے سے فریقین سمندری کشیدگی کم کرنے اور آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت معمول پر لانے کے لیے کوششیں کر رہے تھے۔
ایران نے اب تجارتی جہازوں کی آزادانہ آمدورفت کو خلیج سے بعض مغربی بحری اثاثوں کی فوری واپسی اور اپنے پیٹروکیمیکل شعبے پر عائد طویل عرصے سے موجود پابندیوں میں نرمی سے مشروط کر دیا ہے۔
عالمی شپنگ انڈسٹری کے لیے یہ پیش رفت معمول کی صورتحال کی فوری بحالی کی امیدوں کو بڑا دھچکا ہے۔ دنیا کی تقریباً 20 فیصد پٹرولیم سپلائی اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرتی ہے۔ آبنائے ہرمز میں خطرات برقرار رہنے کی صورت میں ٹینکرز کے انشورنس اخراجات بڑھ جاتے ہیں، جبکہ عالمی توانائی کی قیمتوں میں خدشات کے باعث اضافی "خوف کا پریمیم” شامل ہو جاتا ہے، جس کا اثر بالآخر صارفین تک پہنچتا ہے۔
ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے ٹیلی وژن خطاب میں کہا کہ ایران اپنی خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ انہوں نے نئی شرائط کو مذاکراتی حربے کے بجائے قومی سلامتی کا معاملہ قرار دیا۔ اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز پر اپنا دباؤ برقرار رکھنے کے لیے مزید معاشی تنہائی برداشت کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔
مغربی حکام نے، حساس مذاکرات کے باعث نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، نئی شرائط کے وقت پر مایوسی کا اظہار کیا۔ سفارتی ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں ایک ممکنہ "بفر زون” معاہدے کے حوالے سے پیش رفت کی امید پیدا ہوئی تھی، تاہم ایران کی نئی شرائط کے بعد یہ سفارتی عمل رک گیا ہے۔
بحرین میں موجود امریکی ففتھ فلیٹ نے بھی خطے میں اپنی موجودگی برقرار رکھی ہے اور واضح کیا ہے کہ وہ ایران کے تازہ بیانات کے باوجود بین الاقوامی پانیوں میں گشت جاری رکھے گا۔
یہ معاملہ صرف تیل کی ترسیل تک محدود نہیں بلکہ خطے میں اثر و رسوخ کی کشمکش بھی بن چکا ہے۔ آبنائے ہرمز پر اپنی گرفت مزید مضبوط کرکے تہران اس اتحاد کے عزم کو آزما رہا ہے جو عالمی سمندری تجارت کے تحفظ کے لیے سرگرم ہے۔
ایران کی نئی شرائط سامنے آنے کے بعد مذاکرات کے ذریعے فوری حل کے امکانات مزید کم دکھائی دے رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تعطل رواں ماہ بھی جاری رہ سکتا ہے، جس کے باعث شپنگ کمپنیوں کو ایک طرف طویل راستوں سے جہاز بھیجنے کے اضافی اخراجات اور دوسری طرف دنیا کی انتہائی حساس سمندری گزرگاہ سے گزرنے کے خطرات کے درمیان فیصلہ کرنا ہوگا۔
