وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے سندھ اسمبلی کی جانب سے نئے صوبوں کے قیام کے خلاف منظور کی گئی قرارداد کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی اسمبلی کا موقف وفاقی قانون سازی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتا۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے واضح کیا کہ انتظامی یونٹس کا قیام ایک آئینی عمل ہے، جس کا دارومدار پارلیمنٹ میں حاصل دو تہائی اکثریت پر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر قومی اسمبلی اور سینیٹ میں مطلوبہ تعداد پوری ہو جائے تو کسی بھی صوبائی اسمبلی کی مخالفت اس آئینی عمل کو روکنے کی قانونی حیثیت نہیں رکھتی۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سندھ اسمبلی نے متفقہ طور پر صوبے کی تقسیم کے خلاف قرارداد منظور کی ہے۔ پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں نے اس اقدام کو سندھ کی ثقافتی اور تاریخی شناخت کے خلاف سازش قرار دیا ہے۔ سندھ کے سیاسی حلقوں میں اس بحث نے شدید تشویش کو جنم دیا ہے، جہاں اسے صوبے کو کمزور کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
خواجہ آصف کا موقف ہے کہ وفاقی حکومت انتظامی بہتری کے لیے نئے یونٹس کے قیام کو ضروری سمجھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین میں صوبوں کی حدود تبدیل کرنے یا نئے صوبے بنانے کا واضح طریقہ کار موجود ہے۔ "جب پارلیمنٹ فیصلہ کر لے تو صوبائی اسمبلیوں کے تحفظات ثانوی حیثیت اختیار کر جاتے ہیں،” انہوں نے مزید کہا۔
آئینی ماہرین کی رائے اس سے مختلف ہے۔ آئین کے آرٹیکل 239 کے تحت، کسی بھی صوبے کی حدود کو تبدیل کرنے کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی سے دو تہائی اکثریت سے قرارداد منظور کروانا لازمی ہے۔ سندھ اسمبلی کی جانب سے پیشگی قرارداد کا مقصد اس قانونی راستے کو بند کرنا ہے تاکہ وفاق کو کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے ہی آئینی رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑے۔
پیپلز پارٹی کے لیے یہ معاملہ سیاسی بقا سے جڑا ہوا ہے۔ پارٹی قیادت کا ماننا ہے کہ صوبے کی تقسیم کا مطالبہ دراصل ان کے انتخابی گڑھ کو کمزور کرنے کی ایک سیاسی چال ہے۔
خواجہ آصف کا بیان ظاہر کرتا ہے کہ وفاقی حکومت اس معاملے پر ایک طویل آئینی و سیاسی کشمکش کے لیے تیار ہے۔ کیا حکومتی اتحاد پارلیمنٹ میں اتنی بڑی تعداد حاصل کر پائے گا کہ وہ سندھ اسمبلی کی مزاحمت کو نظر انداز کر سکے، یا یہ بیان صرف سیاسی دباؤ بڑھانے کی ایک کوشش ہے؟ حتمی جواب آنے والے دنوں کی پارلیمانی کارروائی میں چھپا ہے۔
