زغرب — کروشین حکام نے 2022 میں ہونے والے نورڈ اسٹریم گیس پائپ لائن دھماکوں کے سلسلے میں ایک یوکرینی شہری کو گرفتار کر لیا ہے۔ اس گرفتاری کو یورپ کی تاریخ میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر ہونے والے سب سے بڑے حملے کی تحقیقات میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
جرمن فیڈرل پراسیکیوٹرز، جو اس کیس کی سربراہی کر رہے ہیں، نے مذکورہ ملزم کے وارنٹ جاری کیے تھے۔ اطلاعات کے مطابق، ملزم کو کروشیا کی سرحد کے قریب سے حراست میں لیا گیا اور اب برلن اس کی حوالگی کے لیے قانونی کارروائی شروع کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
ستمبر 2022 میں بحیرہ بالٹک کے نیچے ہونے والے ان دھماکوں نے روس سے جرمنی تک گیس پہنچانے والی چار میں سے تین پائپ لائنوں کو تباہ کر دیا تھا۔ اس واقعے نے نہ صرف یورپ میں توانائی کا بحران پیدا کیا بلکہ عالمی سطح پر ایک پیچیدہ سیاسی اور سفارتی جنگ کو بھی جنم دیا۔
ابتدائی تحقیقات میں تفتیش کاروں کی توجہ ‘اینڈرومیڈا’ نامی ایک تفریحی کشتی پر مرکوز رہی، جسے مبینہ طور پر ایک یوکرینی گروپ نے کرائے پر لیا تھا۔ جرمن ماہرین کو کشتی کے اندر فوجی گریڈ کے دھماکہ خیز مواد کے نشانات ملے تھے، جس نے تحقیقات کا رخ ایک مخصوص گروپ کی جانب موڑ دیا۔
کریملن نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے بارہا یہ موقف اختیار کیا ہے کہ یہ حملہ امریکہ یا اس کے اتحادیوں نے روس اور یورپ کے تعلقات کو توڑنے کے لیے کیا۔ دوسری جانب، کیف اور واشنگٹن نے اس واقعے میں ملوث ہونے سے مکمل لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔
اس گرفتاری نے کیس کو قیاس آرائیوں سے نکال کر ایک ٹھوس قانونی مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ جرمن حکام اب تک اس معاملے پر انتہائی محتاط رہے ہیں، لیکن کروشیا میں ہونے والی یہ کارروائی اس بات کا اشارہ ہے کہ تفتیشی اداروں کا دائرہ کار اب ان افراد تک پہنچ رہا ہے جو مبینہ طور پر اس آپریشن میں براہِ راست ملوث تھے۔
جرمن چانسلر اولاف شولز کی حکومت کے لیے یہ گرفتاری ایک نئی سفارتی آزمائش ہے۔ ایک طرف جرمنی یوکرین کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے، تو دوسری طرف اس کے اپنے ملک کے اہم ترین توانائی کے اثاثوں کو نشانہ بنایا گیا۔
اب جب کہ ایک اہم مشتبہ شخص حراست میں ہے، اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ فرد محض ایک آزاد کار تھا یا اس کے پیچھے کسی منظم نیٹ ورک کا ہاتھ کارفرما تھا۔ کیس کی سماعت اب جرمن عدالتوں میں متوقع ہے، جہاں سے اس واقعے کے محرکات کی مزید حقیقت سامنے آئے گی۔
