نئی دہلی میں منگل کے روز اس وقت شدید ہنگامہ آرائی ہوئی جب ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ (سی جے پی) کے سیکڑوں کارکنوں نے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی۔ پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے آنسو گیس کے گولے داغے اور لاٹھی چارج کا سہارا لیا۔
احتجاج کا آغاز دوپہر کے وقت ہوا، جب کارکنوں نے جن پتھ چوراہے پر نصب آہنی رکاوٹوں کو ہٹانے کی کوشش کی۔ پولیس نے فوری ردعمل دیتے ہوئے مظاہرین کو منتشر کیا اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔
پولیس کی حراست میں لیے جانے سے قبل سی جے پی کے علاقائی رابطہ کار وکرم سنگھ نے کہا، "ہم یہاں رکاوٹوں سے مذاکرات کرنے نہیں آئے، حکومت جتنی چاہے آنسو گیس استعمال کر لے، انتظامیہ میں موجود کرپشن کی بو اب چھپنے والی نہیں ہے۔”
پارلیمنٹ کے باہر تین گھنٹے تک افراتفری کا عالم رہا۔ فسادات روکنے والے دستوں نے ڈھالوں کا استعمال کرتے ہوئے مظاہرین کو پیچھے دھکیلا، جبکہ جواب میں مظاہرین نے پتھراؤ اور پانی کی بوتلیں پھینکیں۔ پولیس نے کم از کم 40 افراد کو حراست میں لے کر قریبی تھانوں میں منتقل کر دیا ہے۔
سی جے پی، جو اپنی جارحانہ اور ڈرامائی احتجاجی حکمت عملیوں کے لیے جانی جاتی ہے، حالیہ مہینوں میں بلدیاتی سطح پر انتظامی ناکامیوں کو اجاگر کر کے مقبولیت حاصل کر رہی ہے۔ آج کا مارچ ان کی جانب سے طاقت کا سب سے بڑا مظاہرہ تھا۔
پولیس کے اعلیٰ حکام نے کارروائی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ علاقے میں صبح سے ہی دفعہ 144 نافذ تھی، جس کے تحت چار سے زائد افراد کے اکٹھے ہونے پر پابندی ہے۔ دہلی پولیس کے ایک ترجمان نے صحافیوں کو بتایا کہ صورتحال بگڑنے سے قبل مظاہرین کو منتشر ہونے کی بارہا تنبیہ کی گئی تھی۔
ہسپتال کے ریکارڈ کے مطابق کم از کم ایک درجن مظاہرین کو ابتدائی طبی امداد دی گئی، جن میں آنسو گیس سے سانس لینے میں دشواری اور لاٹھی چارج سے لگنے والی چوٹیں شامل ہیں۔ کسی بھی پولیس اہلکار کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔
منگل کی شام تک پارلیمنٹ کے اطراف کی سڑکیں خالی کرا لی گئی تھیں، تاہم سکیورٹی کے سخت انتظامات تاحال برقرار ہیں۔ سی جے پی کے لیے یہ گرفتاریاں ان کی مہم کا اختتام نہیں، بلکہ پارٹی ان جھڑپوں کی فوٹیج کو ریاستی طاقت کے بے جا استعمال کے بیانیے کو مزید تقویت دینے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔
