کوئٹہ — بلوچستان فوڈ اتھارٹی نے شہر بھر میں کھلے پاؤڈر دودھ کی فروخت پر فوری پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ فیصلہ لیبارٹری ٹیسٹ کے دوران ناقص معیار، ملاوٹ اور غیر صحت بخش اجزاء کی موجودگی کی تصدیق کے بعد کیا گیا ہے۔
کئی برسوں سے کوئٹہ کے بازاروں میں کھلے پاؤڈر دودھ کی فروخت ایک معمول تھی۔ کم آمدنی والے طبقے کے لیے یہ ڈبے والے مہنگے دودھ کا سستا متبادل سمجھا جاتا تھا، مگر اب یہ انکشاف ہوا ہے کہ ان کھلے تھیلوں میں چاک، نشاستہ اور صنعتی کیمیکلز کی بھاری مقدار شامل کی جا رہی تھی۔
فوڈ اتھارٹی کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ صرف صفائی کا مسئلہ نہیں بلکہ انسانی جانوں سے کھلواڑ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بازاروں میں کھلے عام پڑے یہ تھیلے نمی، کیڑے مکوڑوں اور جراثیم کا مرکز بن چکے ہیں، اور جو پاؤڈر فروخت کیا جا رہا ہے، اس کا معیار انسانی خوراک کے تقاضوں سے کوسوں دور ہے۔
اتھارٹی کی ٹیموں نے لیاقت بازار اور پرنس روڈ سمیت شہر کے اہم تجارتی مراکز میں کارروائی کرتے ہوئے سینکڑوں کلوگرام غیر معیاری پاؤڈر قبضے میں لے لیا ہے۔ دکانداروں کو سخت تنبیہ کی گئی ہے کہ اگر پابندی کے باوجود فروخت جاری رہی تو نہ صرف بھاری جرمانہ ہوگا بلکہ دکانیں بھی سیل کر دی جائیں گی۔
اس پابندی سے چھوٹے دکانداروں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ ان کا موقف ہے کہ کھلے دودھ کی قیمت کم ہونے کی وجہ سے غریب خریدار اسے ترجیح دیتے ہیں۔ دوسری جانب ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ اس دودھ کے استعمال سے بچوں میں پیٹ کی بیماریاں اور غذائی قلت جیسے سنگین مسائل پیدا ہو رہے ہیں، جنہیں مزید نظر انداز کرنا ممکن نہیں تھا۔
تحقیقاتی ٹیمیں اب اس پاؤڈر کی سپلائی چین کو ٹریس کر رہی ہیں۔ ابتدائی معلومات کے مطابق، یہ غیر معیاری پاؤڈر سرحد سے ملحقہ اضلاع سے غیر قانونی راستوں کے ذریعے شہر لایا جاتا ہے اور پھر اسے بغیر کسی لیبل کے بازاروں میں پہنچایا جاتا ہے۔
فوڈ اتھارٹی نے دکانداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ صرف ان برانڈز کو فروخت کریں جن کی پیکنگ پر رجسٹریشن اور معیار کے نشانات موجود ہیں۔ شہر کے بازاروں میں نگرانی بڑھا دی گئی ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ غیر محفوظ دودھ مزید کسی گھر کے کچن تک نہ پہنچے۔
