گرینڈ کینین کے دور دراز علاقے ’ہواسوکینین‘ میں آنے والے اچانک سیلابی ریلے نے سیاحوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس کے نتیجے میں دو افراد ہلاک جبکہ متعدد تاحال لاپتہ ہیں۔ نیشنل پارک سروس کے مطابق، سیلابی پانی کا ریلا اس قدر شدید تھا کہ ہائیکنگ کرنے والوں کو سنبھلنے کا موقع تک نہ ملا۔
حکام نے جمعہ کی رات ہلاکتوں کی تصدیق کی۔ امدادی کارروائیوں میں ہیلی کاپٹرز اور ماہر تیراکوں کی ٹیمیں مصروف ہیں، جو دشوار گزار اور ملبے سے اٹی ہوئی وادیوں میں پھنسے لوگوں کو تلاش کر رہی ہیں۔ یہ علاقہ اپنی تنگ گزرگاہوں اور کھڑی چٹانوں کی وجہ سے جانا جاتا ہے، جہاں ذرا سی غفلت جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔
ہواسوپائی قبیلے نے، جو اس علاقے کا انتظام سنبھالتا ہے، ہنگامی بنیادوں پر ریزرویشن کو غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیا ہے۔ سیاحتی سرگرمیوں، کیمپنگ اور ہائیکنگ پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ مقامی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس وقت اولین ترجیح صرف اور صرف انسانی جانوں کا تحفظ ہے۔
ایک مقامی گائیڈ نے صورتحال کی ہولناکی بیان کرتے ہوئے کہا، "پانی میں صرف طغیانی نہیں تھی، یہ کسی مال بردار ٹرین کی طرح تیزی سے آیا۔ تنگ راستوں میں آپ کے پاس اوپر چڑھنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہوتا، اور یہاں کی چٹانیں اکثر اتنی سیدھی ہیں کہ ان پر چڑھنا ناممکن ہے۔”
ایریزونا کی ان وادیوں میں سیلاب کی پیش گوئی کرنا انتہائی مشکل ہے۔ بسا اوقات میلوں دور ہونے والی بارش کا پانی چند منٹوں میں خشک ندیوں کو خونی طوفان میں بدل دیتا ہے، جبکہ اس وقت آسمان بالکل صاف ہوتا ہے۔ یہی قدرتی بے یقینی اس واقعے کو مزید خطرناک بناتی ہے۔
امدادی ٹیموں کو اب بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ کیچڑ کے تودے، بڑے پتھر اور مزید بارشوں کا امکان ریسکیو آپریشن میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔ حکام نے تاحال ہلاک ہونے والوں کے نام ظاہر نہیں کیے ہیں، جبکہ لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے آپریشن جاری ہے۔
موسمِ برسات کے دوران نیشنل پارک سروس نے سیاحوں کو سخت انتباہ جاری کیا ہے کہ وادیوں میں موسم کی پیش گوئی پر مکمل بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ فی الحال، تمام تر توجہ لاپتہ افراد کی بازیابی پر مرکوز ہے، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ امیدیں مدہم پڑ رہی ہیں۔
