سرجانی ٹاؤن — کراچی کے علاقے سرجانی ٹاؤن میں ایک ہی خاندان کے چار افراد کے بہیمانہ قتل کیس میں پولیس نے بڑی پیش رفت کرتے ہوئے مقتولین کے ایک قریبی واقف کار کو حراست میں لے لیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق، مشتبہ شخص کو مقتولین کے موبائل فون ریکارڈز اور جائے وقوعہ سے ملنے والے فرانزک شواہد کی روشنی میں گرفتار کیا گیا۔ سیکٹر 5-C/3 میں واقع گھر سے ملنے والی لاشوں میں میاں، بیوی اور ان کے دو بچے شامل تھے۔ اہل علاقہ کی جانب سے گھر میں کئی روز سے غیر معمولی خاموشی کی اطلاع ملنے پر پولیس نے گھر کا دروازہ توڑا تو لاشیں برآمد ہوئیں۔
ابتدائی تفتیش میں مشتبہ شخص کے بیانات میں تضاد پایا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم کا مقتول خاندان کے سربراہ سے گہرا تعلق تھا اور وہ اکثر ان کے گھر آتا جاتا رہا ہے۔ پولیس نے فی الحال ملزم کا نام صیغہ راز میں رکھا ہے تاکہ تفتیش کے عمل میں خلل نہ پڑے۔
"ہم مالی تنازعات اور ذاتی دشمنی، دونوں پہلوؤں پر کام کر رہے ہیں،” تفتیشی ٹیم کے ایک افسر نے بتایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملزم کی نقل و حرکت اور وقوعہ کے وقت کے بارے میں دیے گئے بیانات میں واضح فرق ہے، جو اسے مرکزی تفتیش کا حصہ بناتا ہے۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ میں موت کی وجہ تیز دھار آلے کا استعمال بتائی گئی ہے۔ جائے وقوعہ سے ایک آلہ بھی برآمد ہوا ہے جس پر موجود انگلیوں کے نشانات اور خون کے نمونوں کی لیبارٹری سے تصدیق کروائی جا رہی ہے۔
اس ہولناک واقعے کے بعد سرجانی ٹاؤن کے رہائشیوں میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔ متاثرہ گھر کے باہر جمع ہونے والے پڑوسیوں کا مطالبہ ہے کہ ملزمان کو فوری طور پر کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ علاقے میں حالیہ عرصے میں جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح نے مکینوں کی نیندیں اڑا دی ہیں، اور یہ واقعہ ان کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان بن چکا ہے۔
پولیس کی تمام تر توجہ اب زیر حراست شخص سے اگلوائے جانے والے سچ پر مرکوز ہے۔ اگر ملزم کے بیانات ڈیجیٹل شواہد سے مطابقت نہ رکھ سکے تو اگلے 48 گھنٹوں میں باقاعدہ مقدمہ درج کر کے اسے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
تفتیشی ٹیم کا کہنا ہے کہ جب تک ملزم سے حتمی محرکات کا تعین نہیں ہو جاتا، اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ اس واردات میں ایک سے زائد افراد ملوث ہوں۔
