محکمہ موسمیات نے ملک بھر میں ایک نئے موسمی سسٹم کے داخلے کی پیش گوئی کی ہے، جس کے تحت آج سے ملک کے بیشتر حصوں میں گرج چمک کے ساتھ بارشوں کا سلسلہ شروع ہو رہا ہے۔ یہ سسٹم ہفتے کے آخر تک جاری رہے گا، جس سے شہری مراکز اور پہاڑی علاقوں میں معمولاتِ زندگی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
بارشوں کا یہ سلسلہ سب سے پہلے خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کے پہاڑی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے گا، جس کے بعد پنجاب اور سندھ کے میدانی علاقے اس کی زد میں آئیں گے۔ ماہرینِ موسمیات کے مطابق جمعرات سے ہفتے کے دوران موسمی شدت اپنے عروج پر ہوگی۔
لاہور اور کراچی جیسے بڑے شہروں میں نکاسی آب کا نظام ایک بار پھر امتحان میں ہوگا۔ انتظامیہ نے ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے، لیکن ماضی کے تجربات بتاتے ہیں کہ شدید بارشوں کے دوران شہری سڑکوں پر پانی جمع ہونا معمول کی بات ہے۔ شمالی علاقہ جات کے رہائشیوں کے لیے خطرہ زیادہ سنگین ہے؛ حکام نے لینڈ سلائیڈنگ کے پیشِ نظر شاہراہوں پر سفر کرنے والوں کو محتاط رہنے کی تنبیہ کی ہے۔
زرعی شعبے کے لیے یہ بارشیں دو دھاری تلوار ہیں۔ ایک طرف زمین کو پانی کی ضرورت ہے، مگر تیز ہواؤں کے ساتھ ہونے والی بارش کھڑی فصلوں، خاص طور پر گندم اور سبزیوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ ماہرینِ زراعت کا کہنا ہے کہ اگر ژالہ باری ہوئی تو نقصانات کا تخمینہ مزید بڑھ سکتا ہے۔
موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث اس بار طوفانی ہواؤں اور بجلی گرنے کے واقعات کا امکان بھی زیادہ ہے۔ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے گرڈ اسٹیشنز پر اضافی عملہ تعینات کر دیا ہے تاکہ بارش کے دوران فالٹ کی صورت میں فوری بحالی ممکن ہو سکے۔
ایمرجنسی سروسز الرٹ پر ہیں، تاہم محکمہ موسمیات نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ طوفان کی شدت کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا اس بار ہماری شہری سہولیات اس موسمی دباؤ کو برداشت کر پائیں گی یا پھر عوام کو ایک بار پھر طویل بجلی کی بندش اور ٹریفک جام کا سامنا کرنا پڑے گا۔
