جرمن اپوزیشن لیڈر اور کرسچن ڈیموکریٹک یونین کے سربراہ فریڈرک مرز نے خبردار کیا ہے کہ مشرقی جرمنی میں دائیں بازو کی جماعت ‘متبادل برائے جرمنی’ کا اقتدار میں آنا خطے کی معیشت کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا۔ سیکسنی، تھورنگیا اور برانڈنبرگ میں ہونے والے انتخابات سے قبل مرز کا یہ بیان سیاسی درجہ حرارت میں اضافے کا باعث بن گیا ہے۔
مرز کا استدلال ہے کہ کی حکومت مقامی معیشت کو تنہائی کا شکار کر دے گی۔ ان کے مطابق، بین الاقوامی سرمایہ کار ایسی سیاسی قیادت کے ساتھ کام کرنے سے گریز کریں گے جس کا ایجنڈا نفرت اور تقسیم پر مبنی ہو۔ یہ خطہ پہلے ہی صنعتی بحالی کے مراحل سے گزر رہا ہے، اور ایسی کسی بھی تبدیلی کا مطلب بیرونی سرمایہ کاری کا انخلا ہو سکتا ہے۔
"اگر اقتدار میں آئی تو مشرقی جرمنی کا سرمایہ کاری کا ماحول راتوں رات ختم ہو جائے گا،” مرز نے برلن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ جرمن صنعتیں عالمی سپلائی چین اور ہنر مند لیبر پر انحصار کرتی ہیں، جنہیں کی سخت گیر پالیسیوں سے خطرہ لاحق ہے۔
تھورنگیا اور سیکسنی میں حالیہ پولز کے مطابق سب سے بڑی جماعت بن کر ابھر رہی ہے۔ اس صورتحال نے مرکزی دھارے کی جماعتوں کے لیے ایک بڑا چیلنج کھڑا کر دیا ہے۔ نے اب تک ‘فائر وال’ پالیسی اپنا رکھی ہے، جس کے تحت وہ کسی بھی صورت میں کے ساتھ اتحاد کرنے سے انکاری ہے۔ تاہم، مشرقی جرمنی میں پارٹی کے مقامی رہنماؤں کے اندر اس حکمت عملی پر تحفظات پائے جاتے ہیں۔
کچھ مقامی رہنماؤں کا ماننا ہے کہ برلن میں بیٹھی قیادت کو زمینی حقائق اور ووٹرز کے بڑھتے ہوئے غصے کا اندازہ نہیں ہے۔ ان کے نزدیک، مرکزی جماعتوں کی مسلسل تنقید ووٹرز کو مزید کی طرف دھکیل رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ لوگ روایتی سیاست سے تنگ آ چکے ہیں اور وہ تبدیلی کے خواہشمند ہیں۔
مرز ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے اپنی پالیسی پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ ان کے لیے صرف ایک سیاسی حریف نہیں، بلکہ جرمنی کے جمہوری اداروں کے لیے ایک وجودی خطرہ ہے۔ وہ ووٹرز کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ احتجاجی ووٹ ڈالنا ایک بات ہے، لیکن معاشی تباہی کا سودا کرنا دوسری۔
انتخابات کے نتائج ہی فیصلہ کریں گے کہ مرز کی یہ حکمت عملی ووٹرز پر کتنا اثر ڈالتی ہے۔ اگر سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آتی ہے، تو کو ایک مشکل سیاسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا — جہاں اسے یا تو اقلیتی حکومت چلانا ہوگی یا پھر اپنے روایتی سیاسی حریفوں کے ساتھ مل کر ایک غیر معمولی اتحاد بنانا ہوگا۔
جرمنی کی مشرقی ریاستوں کا سیاسی نقشہ بدلنے کے دہانے پر ہے۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ ووٹرز معاشی استحکام کو ترجیح دیتے ہیں یا پھر کی جانب سے پیش کردہ ‘تبدیلی’ کے نعرے کو۔
