ریکیاوک — آئس لینڈ کی حکومت نے یورپی یونین میں شمولیت کے تمام امکانات کو باضابطہ طور پر ختم کر دیا ہے۔ کابینہ نے منگل کے روز فیصلہ کیا کہ ملک یورپی یونین کے ساتھ الحاق کے مذاکرات دوبارہ شروع نہیں کرے گا، جس کا مقصد ملکی معیشت، خاص طور پر ماہی گیری کے شعبے پر مکمل کنٹرول برقرار رکھنا ہے۔
آئس لینڈ کا یہ فیصلہ جذباتی نہیں بلکہ خالصتاً معاشی ہے۔ یورپی یونین کا حصہ بننے کا مطلب ‘کامن فشریز پالیسی’ کو اپنانا ہے، جو آئس لینڈ کے لیے کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ ملک کی جی ڈی پی کا ایک بڑا حصہ سمندری وسائل پر منحصر ہے، اور حکومت کسی بھی ایسی بیرونی مداخلت کو اپنے مفادات کے لیے خطرہ سمجھتی ہے جو ریکیاوک سے فیصلے کا حق چھین لے۔
وزیر اعظم کے دفتر سے وابستہ ایک اعلیٰ عہدیدار کا کہنا تھا، "ہم اپنا راستہ خود منتخب کر چکے ہیں۔ یورپی یونین کا ریگولیٹری فریم ورک ہماری ملکی معیشت کی رفتار اور ہمارے وسائل کے انتظام کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔”
یہ فیصلہ اس بحث کا حتمی نتیجہ ہے جو 2008 کے مالیاتی بحران کے بعد شروع ہوئی تھی۔ اس وقت کرنسی کی گرتی ہوئی قدر کے باعث آئس لینڈ نے یورپی یونین کی طرف دیکھا تھا اور 2009 میں رکنیت کے لیے درخواست بھی دی تھی۔ تاہم، 2013 میں معیشت کی بحالی کے بعد عوامی سطح پر برسلز کے ساتھ الحاق کا جوش و خروش ختم ہو گیا اور مذاکرات سرد خانے میں چلے گئے۔
حزب اختلاف کے حلقے اب بھی تنقید کر رہے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ یورپی یونین سے دوری ملک کو براعظمی سکیورٹی اور تجارتی پالیسیوں کے مرکز سے دور کر دے گی۔ آئس لینڈ اس وقت ‘یورپین اکنامک ایریا’ کا حصہ ہے، جس کے تحت وہ یورپی منڈی تک رسائی تو رکھتا ہے، لیکن یورپی یونین کے قوانین پر عمل کرنے کا پابند ہے، حالانکہ ان قوانین کی تشکیل میں اس کا کوئی کردار نہیں ہوتا۔
حکومتی ارکان ان خدشات کو مسترد کرتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ میں مکمل خود مختاری ہی واحد راستہ ہے۔ یورپی یونین کے دروازے بند کر کے آئس لینڈ نے واضح کر دیا ہے کہ وہ شمالی بحر اوقیانوس میں اپنے قانون سازی کے اختیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
فی الحال، اس معاملے پر طویل بحث کا خاتمہ ہو چکا ہے اور آئس لینڈ نے یورپی بلاک سے دور رہ کر اپنی الگ راہ پر چلنے کا فیصلہ کیا ہے۔
