حکومت نے 22 جولائی کو ملک بھر میں عام تعطیل کا اعلان کر دیا ہے، تاہم اس اچانک چھٹی کی وجوہات پر حکومتی حلقوں کی جانب سے خاموشی برقرار ہے۔
کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیر 22 جولائی کو تمام سرکاری و نجی دفاتر، تعلیمی ادارے اور بینک بند رہیں گے۔ نوٹیفکیشن میں تعطیل کی وجہ "انتظامی امور” بتائی گئی ہے، لیکن اس مختصر وضاحت نے عوامی حلقوں میں قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہے۔
اس اچانک فیصلے نے کاروباری مراکز اور تعلیمی نظام کے شیڈول کو درہم برہم کر دیا ہے۔ نجی شعبے کے لیے یہ حکم نامہ لازمی ہے، جس کے باعث کاروباری سرگرمیاں ایک دن کے لیے مکمل معطل رہیں گی۔
مالیاتی منڈیاں بھی اس تعطیل کی زد میں ہیں۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج اور انٹر بینک کرنسی مارکیٹ بند رہے گی، جس کے نتیجے میں منگل کے روز کھلنے والی مارکیٹ پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ کام کے دن میں اس اچانک وقفے سے لین دین کے معاملات میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
حکومت کی جانب سے اس دن کے حوالے سے کسی خاص تقریب یا قومی دن کے منانے کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ فی الحال یہ صرف ایک دفتری چھٹی ہے، جس کے دوران ہنگامی خدمات کے علاوہ تمام سرکاری سہولیات معطل رہیں گی۔
اس تعطیل کے باعث ہسپتالوں میں صرف ایمرجنسی عملہ موجود رہے گا، جبکہ یوٹیلیٹی دفاتر بند ہونے سے شہریوں کو اپنے دفتری کام منگل تک مؤخر کرنے پڑیں گے۔
