ابتدائی جراسک دور پر ہونے والی نئی تحقیق نے اس بات کے بارے میں اہم نئے شواہد فراہم کیے ہیں کہ ڈائنوسارز زمین پر کس طرح غالب مخلوق بن کر ابھرے۔ یہ تحقیق ماہرینِ قدیم حیاتیات کو تقریباً 20 کروڑ 10 لاکھ سے 17 کروڑ 40 لاکھ سال پہلے کے دور میں ڈائنوسارز کے ارتقا، پھیلاؤ اور تنوع کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد دے رہی ہے۔
محققین نے مختلف براعظموں سے ملنے والے فوسلز، قدیم چٹانوں اور جانوروں کے نشانات کا جدید تاریخ معلوم کرنے والی تکنیک، سی ٹی اسکین اور کمپیوٹر ماڈلنگ کی مدد سے تجزیہ کیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ ابتدائی جراسک ایک ایسا دور تھا جب ڈائنوسارز نے تیزی سے ارتقا کیا اور مختلف قدرتی ماحول میں خود کو کامیابی سے ڈھال لیا۔
سائنسدانوں کا خیال ہے کہ ٹرائسک دور کے اختتام پر ہونے والی عظیم معدومی نے ڈائنوسارز کے لیے نئے مواقع پیدا کیے۔ بہت سے حریف جانداروں کے ختم ہونے کے بعد ابتدائی ڈائنوسار مختلف اقسام کے سبزی خور اور گوشت خور جانوروں میں تبدیل ہوئے، جو جنگلات، دریائی میدانوں، صحراؤں اور ساحلی علاقوں میں پھیل گئے۔
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اسی دور میں ابتدائی سوروپوڈومارف ، زرہ بند ڈائنوسارز اور بڑے گوشت خور تھیروپوڈڈائنوسارز نمودار ہوئے، جنہوں نے بعد کے جراسک اور کریٹیشیئس ادوار کے عظیم ڈائنوسارز کی بنیاد رکھی۔
محققین کے مطابق بدلتی ہوئی آب و ہوا، آتش فشانی سرگرمیاں اور ماحولیاتی تبدیلیاں ڈائنوسارز کے ارتقا میں اہم عوامل تھیں۔ ان تبدیلیوں نے ان کی جسمانی جسامت، خوراک حاصل کرنے کے طریقوں اور قدیم براعظموں میں ان کے پھیلاؤ پر نمایاں اثر ڈالا۔
تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اسی دور میں ڈائنوسارز میں کئی اہم ارتقائی خصوصیات پیدا ہوئیں، جن میں زیادہ مؤثر انداز میں چلنے کی صلاحیت، مضبوط ہڈیوں کا ڈھانچہ اور مختلف اقسام کی خوراک کے مطابق دانتوں کی ساخت شامل ہیں۔ یہی خصوصیات انہیں تقریباً 16 کروڑ سال تک زمین پر کامیابی سے زندہ رہنے میں مدد دیتی رہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق زمین کی تاریخ کے ایک اہم دور کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے اور یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیاں کس طرح نئی انواع اور مکمل ماحولیاتی نظاموں کے ارتقا کا سبب بن سکتی ہیں۔
سائنسدانوں کو امید ہے کہ مستقبل میں مزید فوسل دریافتیں اور جدید تحقیقی ٹیکنالوجی ابتدائی جراسک دور اور ڈائنوسارز کے عروج کے بارے میں مزید حیرت انگیز راز سامنے لائیں گی۔
