قدیم حیاتیات پر ہونے والی نئی تحقیق نے مڈل جراسک دور پر نئی روشنی ڈالی ہے، جو زمین کی تاریخ کا وہ اہم زمانہ تھا جب دیوقامت ڈائنوسارز نے خشکی کے ماحولیاتی نظام پر غلبہ حاصل کرنا شروع کیا۔ یہ دور تقریباً 17 کروڑ 40 لاکھ سے 16 کروڑ 30 لاکھ سال پہلے تک جاری رہا اور اسی عرصے میں کئی ایسے ڈائنوسار گروہوں نے تیزی سے ارتقا کیا جو بعد میں زمین پر چلنے والے سب سے بڑے جانوروں میں شامل ہوئے۔
محققین نے یورپ، ایشیا، افریقہ اور جنوبی امریکہ سے ملنے والے فوسلز، قدیم چٹانوں اور جانوروں کے نشانات کا سی ٹی اسکین، تھری ڈی ڈیجیٹل ماڈلنگ اور جدید ارضیاتی تاریخ معلوم کرنے والی تکنیکوں کی مدد سے تجزیہ کیا۔ اس تحقیق نے اس دور کے ماحول اور ڈائنوسارز کی زندگی کے بارے میں اہم معلومات فراہم کیں۔
تحقیق سے معلوم ہوا کہ مڈل جراسک دور میں سوروپوڈ ڈائنوسارز کی بڑی اقسام نے تیزی سے ترقی کی۔ یہی ابتدائی اقسام بعد میں براکیوسورس اور ڈپلوڈوکس جیسے دیوقامت لمبی گردن والے ڈائنوسارز کی بنیاد بنیں۔ ان کے بڑے جسم، مضبوط ٹانگیں اور بہتر خوراک حاصل کرنے کی صلاحیت نے انہیں گھنے جنگلات میں کامیابی سے زندہ رہنے کے قابل بنایا۔
اسی دوران بڑے تھیروپوڈ گوشت خور ڈائنوسار بھی زیادہ طاقتور اور مہارت رکھنے والے شکاری بن گئے۔ ان کے مضبوط جبڑے، تیز دھاری دار دانت اور تیز رفتار حرکت انہیں دیوقامت سبزی خور ڈائنوسارز کا شکار کرنے میں مدد دیتے تھے۔
سائنسدانوں کے مطابق اس زمانے کی نسبتاً گرم آب و ہوا، گھنی نباتات اور قدیم عظیم براعظم پینجیا کے بتدریج ٹوٹنے سے نئے قدرتی ماحول وجود میں آئے، جنہوں نے ڈائنوسارز کی مختلف اقسام کے ارتقا اور پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کیا۔
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اسی دور میں ڈائنوسارز کی جسمانی ساخت میں نمایاں تبدیلیاں آئیں، جن میں زیادہ مضبوط ہڈیوں کا ڈھانچہ، بہتر انداز میں چلنے کی صلاحیت اور دیوقامت جسم کو سہارا دینے والی ارتقائی خصوصیات شامل تھیں۔ یہی تبدیلیاں بعد کے لیٹ جراسک اور کریٹیشیئس ادوار میں ڈائنوسارز کی طویل حکمرانی کی بنیاد بنیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مڈل جراسک دور اب بھی ڈائنوسارز کے ارتقا کے حوالے سے نسبتاً کم سمجھا جانے والا زمانہ ہے، اس لیے ہر نئی فوسل دریافت نہایت اہم ثابت ہوتی ہے۔ سائنسدانوں کو امید ہے کہ مستقبل کی مزید کھدائیاں اور جدید تحقیقی ٹیکنالوجی اس دور اور اس کے عظیم ڈائنوسارز کے بارے میں مزید حیرت انگیز راز سامنے لائیں گی۔
