کراچی — وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے کسٹمز کے تین افسران کو گرفتار کر لیا ہے، جن پر ضبط شدہ سامان کی نیلامی میں ایک کروڑ 65 لاکھ روپے کے غبن کا الزام ہے۔
یہ گرفتاریاں ایف آئی اے کے اینٹی کرپشن سرکل نے کسٹمز ہاؤس اور بندرگاہ پر ہونے والی نیلامیوں کے ریکارڈ کی طویل چھان بین کے بعد کیں۔ تفتیشی حکام کے مطابق، گرفتار افسران نے ملی بھگت کے ذریعے قیمتی غیر ملکی سامان اور ضبط شدہ گاڑیوں کی قیمتیں مارکیٹ ریٹ سے انتہائی کم ظاہر کیں اور اپنے پسندیدہ بولی دہندگان کو نوازا۔
"یہ محض کوئی دفتری غلطی نہیں تھی،” کیس سے وابستہ ایک سینئر تفتیشی افسر نے بتایا۔ "ملزمان نے ایک منظم نیٹ ورک بنا رکھا تھا جو سرکاری قیمت (ریزرو پرائس) کو جان بوجھ کر کم رکھتا تھا تاکہ قیمتی اثاثے کوڑیوں کے دام اپنے کارندوں کو فروخت کیے جا سکیں اور فرق اپنی جیبوں میں ڈالا جائے۔”
اس فراڈ کا انکشاف اس وقت ہوا جب ایک اندرونی آڈٹ کے دوران کسٹمز ویئر ہاؤس کے لیجر میں تضاد پایا گیا۔ ریکارڈ کے مطابق جو سامان کروڑوں روپے کی مالیت کا تھا، اسے کاغذات میں ‘ناکارہ’ یا ‘کم قیمت’ دکھا کر نیلام کیا گیا، لیکن سرکاری خزانے میں جمع کرائی گئی رقم اصل تخمینے سے کہیں کم تھی۔
گرفتار ہونے والے افسران میں اپرائزر اور ایگزامینر رینک کے اہلکار شامل ہیں، جنہیں فی الحال ایف آئی اے کے کراچی ہیڈ کوارٹر میں رکھا گیا ہے۔ حکام اب گزشتہ دو سالوں کے دوران ہونے والی تمام نیلامیوں کے ریکارڈ کا ازسرنو جائزہ لے رہے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا یہ گروہ طویل عرصے سے سرگرم تھا یا نہیں۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ان افسران کو فوری طور پر معطل کر دیا ہے اور ایک اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ تاہم، بندرگاہوں پر ڈیجیٹل نگرانی کے فقدان پر ناقدین کا کہنا ہے کہ جب تک نیلامی کا پورا نظام شفاف اور انسانی مداخلت سے پاک نہیں ہوتا، ایسے واقعات کا سدباب مشکل ہے۔
ایف آئی اے اب ان تمام بولی دہندگان اور نجی افراد کے بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات حاصل کر رہی ہے جنہوں نے ان مشکوک نیلامیوں میں حصہ لیا۔ حکام کو شبہ ہے کہ رشوت کی رقم ان بے نامی اکاؤنٹس کے ذریعے منتقل کی گئی جن کا سراغ لگایا جا رہا ہے۔ ملزمان کو کل عدالت میں پیش کر کے جسمانی ریمانڈ حاصل کیا جائے گا۔
