کھٹمنڈو — نیپال کے ضلع دھادنگ میں سیلابی ریلوں اور تودے گرنے کے باعث مٹی تلے دب جانے والی سرنگ سے تین افراد کو زندہ نکال لیا گیا ہے۔ یہ بازیابی ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ملک بھر میں ہلاکتوں کی تعداد 200 سے تجاوز کر چکی ہے اور امدادی کاموں کے دوران کامیابی کی امیدیں دم توڑ رہی تھیں۔
ریسکیو ٹیموں نے بھاری مشینری اور تھرمل کیمروں کی مدد سے تقریباً 48 گھنٹے کی جدوجہد کے بعد ان افراد کو بازیاب کرایا۔ انہیں فوری طور پر کھٹمنڈو کے ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں کے مطابق ان کی حالت خطرے سے باہر ہے، تاہم وہ شدید صدمے اور پانی کی کمی کا شکار ہیں۔
یہ واقعہ اس تباہی کے دوران ایک نایاب کامیابی ہے، جہاں اب زیادہ تر توجہ لاشوں کی تلاش پر مرکوز ہے۔ مون سون کی شدید بارشوں نے کھٹمنڈو وادی میں تباہی مچا رکھی ہے، جس سے پل ٹوٹ گئے، گھر بہہ گئے اور مرکزی شاہراہیں کیچڑ کے ڈھیر میں تبدیل ہو گئیں۔
موقع پر موجود ایک پولیس افسر نے بتایا کہ "ہمیں امید ختم ہوتی نظر آ رہی تھی۔ اتنی زیادہ مٹی کے نیچے دو دن دبے رہنے کے بعد کسی کا زندہ ملنا کسی معجزے سے کم نہیں ہے۔”
مواصلاتی رابطے بحال ہونے کے ساتھ ہی تباہی کا اصل حجم سامنے آ رہا ہے۔ حکومت نے 209 اموات کی تصدیق کی ہے، جبکہ درجنوں افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ ہزاروں خاندان بے گھر ہو چکے ہیں اور عارضی پناہ گاہوں میں صاف پانی اور طبی سہولیات کے منتظر ہیں۔
وزیراعظم کے پی شرما اولی کو حکومتی ردعمل کی سست روی پر سخت تنقید کا سامنا ہے۔ اگرچہ انہوں نے فوری بحالی کا وعدہ کیا ہے، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ وادی بھر میں رہائشی اپنے ہاتھوں سے گھروں میں جمع ہونے والی مٹی اور کیچڑ صاف کرنے پر مجبور ہیں۔
اس تباہی کے معاشی اثرات کا اندازہ لگانے میں مہینوں لگ سکتے ہیں۔ سیلاب نے بھارت اور چین کے ساتھ اہم تجارتی راستے منقطع کر دیے ہیں، اور دیہی انفراسٹرکچر کی تباہی نے کئی دیہات کو امدادی کارروائیوں سے دور کر دیا ہے۔ بجلی کا نظام تاحال غیر مستحکم ہے اور نشیبی علاقوں میں پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا خطرہ ہر گزرتے گھنٹے کے ساتھ بڑھ رہا ہے۔
اب تمام تر توجہ دور دراز علاقوں پر ہے جہاں بارش تھمنے کے بعد ریسکیو ٹیمیں پہنچنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ امدادی ٹیم کے سربراہ کا کہنا ہے کہ "ہم رک نہیں رہے۔ جب تک زندہ بچ جانے کی ایک بھی امید باقی ہے، ہم کھدائی جاری رکھیں گے۔”
