پاکستان مسلم لیگ (ن) نے نئے صوبوں کے قیام کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے اسے فی الحال غیر ضروری قرار دیا ہے۔ پارٹی کے سینئر رہنما رانا ثناء اللہ نے واضح کیا ہے کہ موجودہ سیاسی اور معاشی حالات میں انتظامی بنیادوں پر ملک کی تقسیم پر بحث کرنا قبل از وقت ہے۔
رانا ثناء اللہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اپوزیشن جماعتیں اور جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے کچھ حلقے صوبے کی تقسیم کا مطالبہ شدت سے اٹھا رہے ہیں۔ ان حلقوں کا موقف ہے کہ چھوٹے انتظامی یونٹس عوامی مسائل کے حل اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے ناگزیر ہیں۔
حکمران جماعت کا یہ موقف محض انتظامی ترجیح نہیں بلکہ ایک سیاسی حکمت عملی ہے۔ رانا ثناء اللہ نے "قبل از وقت” کا بیانیہ اپنا کر یہ واضح کر دیا ہے کہ وفاقی حکومت پنجاب کے انتظامی ڈھانچے میں کسی قسم کی بڑی تبدیلی کے حق میں نہیں۔ ان کے نزدیک ملک کی ترجیح معاشی استحکام ہے، نہ کہ آئینی اور انتظامی پیچیدگیوں میں الجھنا۔
"ہماری توجہ اس وقت صرف معیشت کو سنبھالنے پر ہے،” رانا ثناء اللہ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا۔ انہوں نے ان سوالات کو بھی درخورِ اعتنا نہیں سمجھا جن میں نئے صوبوں کے قیام کے لیے درکار آئینی تقاضوں کا ذکر کیا گیا۔
دوسری جانب، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سمیت دیگر ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ حکومت کا پرانا ہتھکنڈہ ہے۔ ان کے مطابق، "قبل از وقت” کا لیبل دراصل اس مطالبے کو ہمیشہ کے لیے سرد خانے میں ڈالنے کی ایک کوشش ہے۔ جنوبی پنجاب کے رہائشیوں کے لیے یہ صوبائی خودمختاری کا دیرینہ خواب ہے، جسے سیاسی جماعتیں ہر الیکشن میں استعمال تو کرتی ہیں مگر عملی اقدامات سے گریزاں رہتی ہیں۔
آئینی اعتبار سے نیا صوبہ بنانا ایک کٹھن مرحلہ ہے۔ قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی سے دو تہائی اکثریت کی منظوری درکار ہوتی ہے، جس کے بغیر یہ خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ موجودہ سیاسی تقسیم میں کسی بھی بڑی آئینی ترمیم کے لیے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اتفاق رائے کا دور دور تک کوئی امکان نہیں۔
فی الحال مسلم لیگ (ن) کا داؤ یہ ہے کہ معاشی بحران کے شور میں صوبوں کا مطالبہ دب جائے گا۔ تاہم، جنوبی پنجاب کی سیاست میں یہ نعرہ کب تک دبے گا اور اپوزیشن اسے کتنا ہوا دے گی، یہ آنے والے دنوں میں واضح ہو جائے گا۔
