خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور نے وفاقی حکومت کو دو ٹوک تنبیہ جاری کر دی ہے: اگر صوبے میں ڈرون پروازیں بند نہ ہوئیں تو صوبائی انتظامیہ خود سڑکوں پر نکلے گی۔
یہ انتباہ سوات اور ضم شدہ اضلاع میں ڈرون طیاروں کی مسلسل نقل و حرکت کے بعد سامنے آیا ہے، جس نے ماضی کے زخموں سے دوچار مقامی آبادی میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔ پشاور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے گنڈا پور نے واضح کیا کہ صوبے کی فضائی حدود کی خلاف ورزی اور عوام کو "ذہنی اذیت” میں مبتلا کرنے کا عمل مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔
"ہمیں خاموش رہنے کا کہا جا رہا ہے جبکہ ہماری فضائیں نامعلوم ڈرونز کے قبضے میں ہیں،” گنڈا پور نے کہا۔ "اگر وفاقی حکومت یہ نہیں بتا سکتی کہ یہ ڈرونز کس کے ہیں اور یہاں کیا کر رہے ہیں، تو ہم احتجاج کا راستہ اپنائیں گے۔ کے پی کے عوام امن کے لیے بھاری قیمت چکا چکے ہیں؛ ہم اس امن کو دوبارہ سبوتاژ نہیں ہونے دیں گے۔”
یہ بیان پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت اور اسلام آباد میں موجود وفاقی انتظامیہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔ وفاقی حکام نے تاحال ان پروازوں کی نوعیت پر پراسرار خاموشی اختیار کر رکھی ہے، جبکہ مقامی رہائشی حساس علاقوں کے اوپر نچلی پروازیں کرنے والے طیاروں کی نشاندہی کر رہے ہیں۔
اس صورتحال کا اصل پہلو یہ ہے کہ گنڈا پور مقامی آبادی کے گہرے تحفظات کو وفاق پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ ڈرون پروازوں کو دفاعی ناکامی یا کسی بیرونی معاہدے سے جوڑ کر وہ وفاقی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو ایک ایسی پوزیشن پر لا کھڑا کر رہے ہیں جہاں وضاحت دینا ناگزیر ہو گیا ہے۔
صوبائی اسمبلی میں بھی اس معاملے پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور ارکان نے سیکیورٹی صورتحال پر باضابطہ بریفنگ کا مطالبہ کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے ابھی احتجاج کی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا، لیکن عندیہ دیا ہے کہ "پہلے مرحلے” میں شمالی اضلاع کے عمائدین اور سیاسی کارکنوں کو متحرک کیا جائے گا۔
"ہم محاذ آرائی نہیں چاہتے، لیکن ہمیں نظر انداز بھی نہیں کیا جا سکتا،” انہوں نے مزید کہا۔
وفاقی حکومت کے پاس اب دو ہی راستے ہیں: یا تو وہ فضائی سرگرمیوں کی نوعیت ظاہر کر کے اپنے آپریشنل رازوں کو خطرے میں ڈالے، یا پھر خاموشی اختیار کر کے صوبے کو سیاسی میدان جنگ بننے دے۔ سوات اور وزیرستان کے رہائشیوں کے لیے یہ ڈرونز ماضی کی تلخ یادوں کا تسلسل ہیں، جبکہ گنڈا پور کے لیے یہ ایک طاقتور سیاسی ہتھیار بن چکے ہیں۔
