لاہور: چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے سندھ طاس معاہدے پر بھارت کے یکطرفہ اقدامات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ پانی کو سیاسی دباؤ کے طور پر استعمال کرنے کی کوئی بھی کوشش خطے کے استحکام اور پاکستان میں لاکھوں افراد کے روزگار کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
گیلانی نے یہ معاملہ لاہور میں امریکی قونصل جنرل اسٹیٹسن سینڈرز سے ملاقات کے دوران اٹھایا، جہاں دونوں فریقین نے پاک امریکا تعلقات، تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی سلامتی پر گفتگو کی۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ معاہدے کی پاسداری اور بین الاقوامی قانون کے احترام کی بحالی میں کردار ادا کرے۔
یہ تشویش ایسے وقت سامنے آئی ہے جب اپریل 2025 کے پہلگام حملے کے بعد بھارت کی جانب سے 1960 کے آبی تقسیم کے معاہدے کو “معطل” رکھنے کے فیصلے پر کشیدگی برقرار ہے۔ پاکستان اس اقدام کو بارہا غیر قانونی قرار دے چکا ہے۔ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ معاہدے میں یکطرفہ معطلی کی کوئی شق موجود نہیں، جبکہ بھارت کا کہنا ہے کہ یہ انتظام اس وقت تک معطل رہے گا جب تک پاکستان سرحد پار دہشت گردی سے متعلق اس کے تحفظات دور نہیں کرتا۔
گیلانی نے کہا کہ پانی کو دباؤ کے ہتھیار میں تبدیل نہیں کیا جانا چاہیے، خاص طور پر ایک ایسے خطے میں جو پہلے ہی موسمیاتی دباؤ، غذائی تحفظ کے خدشات اور دو جوہری ہمسایہ ممالک کے درمیان نازک تعلقات کا سامنا کر رہا ہے۔
عالمی بینک کی ثالثی میں 1960 میں طے پانے والا سندھ طاس معاہدہ دریائے سندھ کے نظام کے استعمال کو منظم کرتا ہے اور اسے طویل عرصے سے ان چند معاہدوں میں شمار کیا جاتا رہا ہے جو بھارت اور پاکستان کے بار بار پیدا ہونے والے بحرانوں کے باوجود برقرار رہے۔ اس معاہدے میں عارضی تعطل بھی پاکستان کے زرعی علاقوں میں خدشات بڑھا رہا ہے، جہاں زراعت کا بڑا انحصار بالائی علاقوں سے آنے والے دریائی بہاؤ پر ہے۔
گیلانی نے امریکا کے ساتھ مضبوط روابط کی پاکستان کی خواہش کا بھی اعادہ کیا اور دوطرفہ تعلقات کو اسلام آباد کی خارجہ پالیسی کا اہم حصہ قرار دیا۔ دونوں جانب سے پارلیمانی روابط کو گہرا کرنے اور وفود کی سطح پر تبادلوں کے ذریعے تعاون بڑھانے کی ضرورت پر اتفاق کیا گیا۔
