واشنگٹن/اسلام آباد: پاکستان کا دارالحکومت اسلام آباد امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کی باضابطہ دستخطی تقریب کی میزبانی کے لیے اب بھی ایک مضبوط امیدوار سمجھا جا رہا ہے، جبکہ مذاکرات میں تاخیر اور بعض اہم معاملات پر اختلافات کے باوجود سفارتی کوششیں جاری ہیں۔
سفارتی ذرائع کے مطابق واشنگٹن اور تہران کے درمیان ابتدائی رابطوں میں سہولت کاری کے باعث اسلام آباد کی حیثیت مزید مستحکم ہوئی ہے۔ اگر دونوں فریق ایک وسیع تر مفاہمت کو حتمی شکل دینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو پاکستان کا دارالحکومت معاہدے کی دستخطی تقریب کا ممکنہ مقام بن سکتا ہے۔ مذاکرات سے واقف حکام کا کہنا ہے کہ اختلافات کے باوجود معاہدے تک پہنچنے کے امکانات اب بھی موجود ہیں، اگرچہ عملدرآمد اور سکیورٹی سے متعلق چند اہم نکات پر اتفاق ہونا باقی ہے۔
اسلام آباد میں اس نوعیت کی اعلیٰ سطحی تقریب کے انعقاد کا امکان اس پس منظر میں سامنے آیا ہے کہ پاکستان نے اپریل میں ہونے والے امریکا-ایران مذاکرات میں ایک اہم ثالثی کردار ادا کیا تھا۔ بیس گھنٹوں سے زائد جاری رہنے والے ان مذاکرات کے باوجود کوئی حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا تھا اور ایران کے جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیوں میں نرمی اور علاقائی سلامتی جیسے کئی حساس معاملات حل طلب رہ گئے تھے۔
سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ واشنگٹن اور تہران دونوں طویل کشیدگی کے سیاسی اور معاشی نقصانات کو پہلے سے زیادہ محسوس کر رہے ہیں۔ حالیہ بات چیت میں آبنائے ہرمز میں استحکام برقرار رکھنے، جنگ بندی کے انتظامات کو توسیع دینے اور حساس معاملات پر آئندہ مذاکرات کے لیے ایک فریم ورک تیار کرنے پر توجہ دی گئی ہے۔
پاکستان کے کردار نے بین الاقوامی سطح پر توجہ حاصل کی ہے اور کئی حکام ملک کو دونوں حریف ممالک کے درمیان ایک مؤثر پل قرار دے رہے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف متعدد مواقع پر اس عزم کا اظہار کر چکے ہیں کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مزید تصادم کو روکنے کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔
اگرچہ ممکنہ دستخطی تقریب کی کوئی تاریخ ابھی تک سامنے نہیں آئی، تاہم سفارتی ذرائع کا ماننا ہے کہ اگر مذاکرات کسی حتمی معاہدے کی جانب بڑھتے ہیں تو اسلام آباد بدستور میزبانی کے لیے نمایاں امیدوار رہے گا۔ تاہم حکام نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی پیش رفت کو حتمی شکل دینے سے پہلے کئی اہم رکاوٹوں کو عبور کرنا ابھی باقی ہے۔
