کراچی: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ملک میں نظامِ حکومت کے خاتمے سے متعلق دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئے صوبوں کے قیام کا معاملہ آئینی اور قانونی دائرے میں رہ کر حل ہونا چاہیے اور اس معاملے پر کسی قسم کی خونریزی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
کان کنی سے متعلق تکنیکی کانفرنس 2026 سے خطاب کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ صوبوں کی تشکیل یا حدود میں تبدیلی کے لیے آئین میں طریقہ کار موجود ہے اور اس معاملے کو غیر ضروری طور پر سنسنی خیز بنانے کی ضرورت نہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق سندھ اسمبلی متعدد مرتبہ نئے صوبے کے قیام کی مخالفت کر چکی ہے اور اس حوالے سے قراردادیں متفقہ طور پر منظور کی گئی ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام پر بحث کو ممنوع قرار نہیں دینا چاہیے اور اگر مستقبل میں صورتحال تبدیل ہوتی ہے تو آئینی طریقہ کار کے تحت اس معاملے پر بات کی جا سکتی ہے۔
احتجاج کے حوالے سے مراد علی شاہ نے کہا کہ احتجاج ہر شہری کا حق ہے، تاہم مظاہرے مقررہ طریقہ کار کے مطابق ہونے چاہئیں اور منتظمین کو احتجاج سے قبل انتظامیہ سے اجازت حاصل کرنی چاہیے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے مقامی کاشتکاروں کے مفادات کے تحفظ کے لیے 10 لاکھ ٹن گندم خریدنے کا انتظام کیا ہے۔
انہوں نے سندھ حکومت کی کارکردگی کا دفاع کرتے ہوئے تھرپارکر میں ہونے والی ترقی کا حوالہ دیا اور کہا کہ جو لوگ سمجھتے ہیں کہ نظام ناکام ہو چکا ہے، انہیں تھرپارکر کا دورہ کرکے وہاں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لینا چاہیے۔
کان کنی کانفرنس کے دوران وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ تھر کے کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کی موجودہ صلاحیت 2 ہزار 640 میگاواٹ سے بڑھا کر آئندہ دنوں میں 3 ہزار میگاواٹ تک پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
مراد علی شاہ کے مطابق تھر کے مختلف بلاکس سے سالانہ ڈیڑھ کروڑ ٹن سے زیادہ کوئلہ نکالا جا رہا ہے، جبکہ مقامی کوئلے کے استعمال سے ملک کو سالانہ ایک ارب 50 کروڑ ڈالر سے زیادہ کے زرمبادلہ کی بچت ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت صوبے میں موجود معدنی وسائل کی مکمل صلاحیت سے فائدہ اٹھانے اور کان کنی کے شعبے کو مزید فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔
ملک میں انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی اور نئے صوبوں کے قیام سے متعلق بحث گزشتہ چند ہفتوں کے دوران دوبارہ شدت اختیار کر گئی ہے۔ 31 جولائی کو ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا تھا کہ بہتر طرز حکمرانی کے لیے اگر انتظامی سطح پر تبدیلی ضروری ہو تو اس پر غور کیا جا سکتا ہے، تاہم ایسی کسی بھی تبدیلی کے لیے آئینی و قانونی طریقہ کار اور عوام کی رائے کو مدنظر رکھنا ضروری ہوگا۔
دوسری جانب متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما مصطفیٰ کمال نے 25 جولائی کو اعلان کیا تھا کہ ان کی جماعت کراچی اور سندھ کے دیگر شہری علاقوں کے ساتھ مبینہ ناانصافی کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کرے گی۔ ایم کیو ایم پاکستان نئے صوبوں کے قیام اور اختیارات کی مزید نچلی سطح تک منتقلی کا مطالبہ بھی کرتی رہی ہے۔
جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے بھی عوامی رضامندی کے بغیر نئے صوبوں کے قیام کی مخالفت کی ہے۔ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے حکومتی اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے ملک کو درپیش مسائل کے حل کے لیے آئین کے مطابق حکمرانی پر زور دیا۔
نئے صوبوں کے قیام کی تجویز نے آئینی ماہرین اور سیاسی حلقوں کے درمیان قانونی بحث بھی چھیڑ دی ہے۔ سابق ایڈیشنل اٹارنی جنرل وقار رانا کا مؤقف ہے کہ پاکستان کے آئین میں نئے صوبے بنانے کے حوالے سے براہِ راست کوئی واضح شق موجود نہیں۔ ان کے مطابق آئین کا آرٹیکل 239 صوبائی حدود میں تبدیلی سے متعلق ہے، تاہم وہ اسے نئے صوبوں کے قیام کی براہِ راست اجازت تصور نہیں کرتے۔
وقار رانا نے تجویز دی کہ نئے صوبوں کے قیام سے پہلے آئین میں اس حوالے سے واضح شق شامل کی جانی چاہیے، جس کے بعد آئینی ترمیم کے ذریعے اس عمل کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔
پاکستان بار کونسل کے رکن بیرسٹر صلاح الدین احمد نے کہا کہ نئے صوبے کے قیام سے موجودہ صوبے کی حدود میں تبدیلی ناگزیر ہوگی۔ ان کے مطابق اس عمل کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت کے ساتھ ساتھ سینیٹ اور قومی اسمبلی میں بھی دو تہائی اکثریت درکار ہوگی۔
بیرسٹر صلاح الدین احمد نے کہا کہ نئے صوبوں کے حامی آئینی طریقہ کار میں تبدیلی کے لیے خود آرٹیکل 239 میں ترمیم کی کوشش بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے آئین کے آرٹیکل 239 کی ذیلی شق 5 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس شق کے تحت آئینی ترمیم کو عدالت میں کسی بھی بنیاد پر چیلنج کرنے کے دائرہ اختیار کو محدود کیا گیا ہے۔
نئے صوبوں کا معاملہ سیاسی حساسیت کے ساتھ ساتھ پیچیدہ آئینی اور قانونی بحث کا بھی موضوع بن گیا ہے، جہاں ایک جانب انتظامی اختیارات کی تقسیم اور نئے صوبوں کے حامی موجود ہیں، جبکہ دوسری جانب مخالف حلقے آئینی تقاضوں اور عوامی رضامندی کو بنیادی شرط قرار دے رہے ہیں
