واشنگٹن — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ اور دیگر اعلیٰ حکام کو ہفتے کی شب وائٹ ہاؤس کوریسپونڈنٹس ایسوسی ایشن (WHCA) کے سالانہ عشائیے سے اس وقت فوری طور پر نکال لیا گیا جب واشنگٹن ہلٹن ہوٹل میں بال روم کے باہر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق صدر محفوظ رہے، جبکہ ایک افسر کو گولی لگی مگر اس کی بلٹ پروف جیکٹ نے جان بچا لی۔
یہ واقعہ ہوٹل میں ہونے والے عشائیے کے دوران پیش آیا، نہ کہ وائٹ ہاؤس کی عمارت کے اندر۔ عینی شاہدین اور ابتدائی میڈیا رپورٹس کے مطابق، تیز دھماکوں جیسی آوازیں سنائی دیں، جس کے فوراً بعد ہال میں بھگدڑ مچ گئی، کچھ لوگ میزوں کے نیچے جھک گئے اور سیکرٹ سروس نے صدر کو اسٹیج سے ہٹا کر محفوظ مقام پر منتقل کر دیا۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، ایک مسلح شخص نے تقریب کے مقام کی سکیورٹی توڑنے کی کوشش کی۔ بعد ازاں ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لے لیا گیا۔ بعض رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اس کے پاس ایک سے زیادہ ہتھیار تھے۔ تاہم حکام کی مکمل تفتیش ابھی جاری ہے، اس لیے واقعے کے تمام محرکات اور سلسلۂ واردات کی حتمی تفصیل سامنے آنا باقی ہے۔
یہ عشائیہ اس لحاظ سے بھی غیرمعمولی اہمیت رکھتا تھا کہ 2026 کی تقریب میں ٹرمپ کی بطور صدر واپسی نمایاں واقعہ سمجھی جا رہی تھی۔ WHCA کے مطابق سالانہ ڈنر 25 اپریل 2026 کو واشنگٹن ہلٹن میں ہونا تھا، اور یہ تقریب تنظیم کی صحافتی سرگرمیوں، فرسٹ امینڈمنٹ سے متعلق پروگراموں اور اسکالرشپس کے لیے اہم ذریعۂ فنڈنگ بھی ہے۔
واقعے کے بعد تقریب عملاً درہم برہم ہو گئی، اور بعد کی رپورٹس کے مطابق اسے منسوخ کر کے دوبارہ شیڈول کرنے کی بات کی گئی۔ اس واقعے نے ایک بار پھر سیاسی شخصیات، بڑے عوامی اجتماعات اور میڈیا تقریبات کی سکیورٹی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکی سیاسی ماحول پہلے ہی شدید تناؤ کا شکار ہے۔
