پشاور — خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے بھر میں اسکول سے باہر بچوں کو دوبارہ تعلیمی نظام میں لانے کے لیے ایک نئی داخلہ مہم شروع کر دی ہے۔ حکومت نے تعلیمی سال 2026-27 کے لیے 13 لاکھ 28 ہزار 620 بچوں کے داخلے کا ہدف مقرر کیا ہے، جبکہ اس مہم کا خاص زور ان بچوں پر ہے جو کسی وجہ سے اسکول نہیں جا رہے۔
صوبائی حکومت کے مطابق مہم کا افتتاح وزیرِ ابتدائی و ثانوی تعلیم ارشد ایوب خان اور چیف سیکریٹری شہاب علی شاہ نے کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس بار صرف داخلے بڑھانے کی بات نہیں ہو رہی بلکہ اسکول چھوڑنے والے بچوں کی تعداد کم کرنے، اضلاع کی سطح پر پیش رفت کی نگرانی کرنے اور ایسے بچوں کی درست نشاندہی کرنے پر بھی توجہ دی جا رہی ہے جو اب تک نظامِ تعلیم سے باہر ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مجموعی ہدف میں 6 لاکھ 84 ہزار 363 لڑکے اور 6 لاکھ 44 ہزار 259 لڑکیاں شامل ہیں۔ ان میں سے 6 لاکھ سے زائد ایسے بچے بھی ہیں جو اس وقت اسکول سے باہر ہیں اور حکومت انہیں باقاعدہ تعلیمی دھارے میں لانا چاہتی ہے۔ یہ بات خاص طور پر قابلِ توجہ ہے کہ ان بچوں میں لڑکیوں کی تعداد زیادہ بتائی گئی ہے، جو صوبے میں بچیوں کی تعلیم کے مسئلے کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہے۔
حکام نے یہ بھی کہا ہے کہ حکومت پرائمری سطح پر ڈراپ آؤٹ ریٹ کو 7 فیصد سے 5 فیصد اور سیکنڈری سطح پر 8 فیصد سے 6 فیصد تک لانے کی کوشش کرے گی۔ بظاہر یہ صرف دو یا تین فیصد کی کمی لگتی ہے، لیکن زمینی حقیقت میں اس کا مطلب ہزاروں بچوں کو اسکول میں برقرار رکھنا ہے۔
اس مہم کا ایک اہم حصہ ڈیٹا پر مبنی نگرانی ہے۔ محکمہ تعلیم ایک خصوصی سروے کرے گا تاکہ اسکول سے باہر بچوں کی درست تعداد، ان کی عمریں، رہائش، اور تعلیم سے دوری کی وجوہات سامنے آ سکیں۔ اس کے ساتھ ایک ڈیجیٹل ڈیش بورڈ بھی بنایا گیا ہے جس کے ذریعے ضلعی سطح پر داخلہ مہم کی پیش رفت دیکھی جا سکے گی۔ حکومت کو امید ہے کہ اس بار صرف اعلانات نہیں ہوں گے بلکہ ہر ضلع کی کارکردگی باقاعدہ طور پر دیکھی جائے گی۔
یہ مسئلہ معمولی نہیں۔ خیبر پختونخوا میں لاکھوں بچے اب بھی اسکولوں سے باہر ہیں۔ اس کی وجوہات میں غربت، دور دراز علاقوں میں اسکولوں کی کمی، بچیوں کے لیے رسائی کے مسائل، نقل و حمل، سماجی رکاوٹیں، اور بعض علاقوں میں کمزور تعلیمی ڈھانچہ شامل ہیں۔ کئی خاندانوں کے لیے بچوں کو تعلیم دلوانا صرف ایک خواہش نہیں بلکہ ایک معاشی چیلنج بھی ہے، کیونکہ بعض گھروں میں بچے روزگار یا گھریلو کاموں میں ہاتھ بٹاتے ہیں۔
گزشتہ برسوں میں بھی صوبائی حکومت نے اسکول سے باہر بچوں کے داخلے کے لیے مختلف منصوبے شروع کیے تھے، جن میں بچیوں اور کمزور طبقات پر خاص توجہ دی گئی۔ نئی مہم کو انہی کوششوں کا اگلا مرحلہ سمجھا جا رہا ہے۔ فرق یہ ہے کہ اس بار حکومت زیادہ منظم، ضلعی نگرانی پر مبنی اور نتائج کے حساب سے کام کرنے کا دعویٰ کر رہی ہے۔
تاہم اصل امتحان اب شروع ہوتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ ہدف کتنا بڑا رکھا گیا ہے، بلکہ یہ ہے کہ کیا سرکاری اسکول اتنی بڑی تعداد میں نئے بچوں کو سنبھالنے کے لیے تیار ہیں؟ کیا اساتذہ، کمروں، سہولیات اور بنیادی ڈھانچے کی کمی پوری کی جا سکے گی؟ اور سب سے اہم، کیا وہ بچے جو ایک بار اسکول آ جائیں گے، وہاں قائم بھی رہ سکیں گے؟
فی الحال صوبائی حکومت اس مہم کو اپنی ترجیحات میں شامل کر رہی ہے اور اسے تعلیمی بحران کے حل کی سمت ایک اہم قدم قرار دے رہی ہے۔ اگر سروے درست ہوا، ضلعی نگرانی مؤثر رہی اور والدین تک رسائی بہتر انداز میں ہوئی، تو یہ مہم واقعی فرق ڈال سکتی ہے۔ لیکن اگر عملدرآمد کمزور رہا تو یہ بھی ان بڑے اعلانات میں شامل ہو سکتی ہے جو خبروں میں تو جگہ بنا لیتے ہیں، مگر زمینی سطح پر بہت کم تبدیلی لا پاتے ہیں۔
