اسلام آباد: حکومت نے آن لائن پلیٹ فارمز پر کنٹرول سخت کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے "پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) 2016” میں ترمیم متعارف کرا دی ہے، جس کے بعد انٹرنیٹ کمپنیوں کو نقصان دہ مواد بلاک نہ کرنے پر حاصل قانونی تحفظ ختم کر دیا جائے گا۔
"الیکٹرانک کرائمز (ترمیمی) بل 2025” پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سینیٹر انوشہ رحمان نے سینیٹ میں پیش کیا۔ اس بل کے تحت انٹرنیٹ، موبائل، ویب اور ڈیٹا اسٹوریج فراہم کرنے والی کمپنیوں کو پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) یا دیگر مجاز اداروں کے حکم پر اعتراض انگیز مواد ہٹانا یا بلاک کرنا لازمی ہوگا۔
نئی تجویز کے مطابق، پی ای سی اے کی دفعہ 38 میں ترمیم کی جائے گی جس کے بعد کمپنیاں اور ان کے ذمے دار افسران براہِ راست قانونی کارروائی کا سامنا کر سکیں گے اگر انہوں نے حکام کے احکامات پر عمل درآمد نہ کیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ ترمیم پاکستان کے ڈیجیٹل ماحول کو محفوظ بنانے اور ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز کو جوابدہ ٹھہرانے کی ایک اہم کوشش ہے، تاکہ نقصان دہ مواد کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ حکومت کے مطابق یہ اقدام نہ صرف کمپنیوں کو فوری کارروائی پر مجبور کرے گا بلکہ صارفین کو بھی نقصان دہ مواد اپ لوڈ کرنے سے باز رکھے گا۔
اگر یہ بل منظور ہوگیا تو پاکستان میں سوشل میڈیا اور آن لائن سروس فراہم کرنے والوں پر سب سے سخت ضابطہ نافذ ہو جائے گا۔
